بنگلہ دیش میں بنگال ٹائیگر کے چھ مبینہ غیرقانونی شکاری ہلاک

،تصویر کا ذریعہThinkstock
بنگلہ دیش کے گھنے جنگلات میں پولیس اور مشتبہ غیرقانونی شکاریوں کے درمیان تصادم میں چھ مشتبہ شکاریوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے تین رائل بنگال ٹائیگرزکی کھالیں قبضے میں لی لیں ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر حال ہی میں مارے گئے ٹائیگرز کی ہیں۔
<link type="page"><caption> بنگال ٹائیگر جن کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2014/07/140724_bengal_tigers_pics_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’بنگلہ دیش کے سندربن میں صرف 106 شیر باقی بچے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/07/150728_bangladesh_tigers_number_fall_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
بنگلہ دیش کے جنوب مشرق میں سندربن کے جنگلات دس ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور انھیں رائل بنگال ٹائیگرز کا گھر قرار دیا جاتا ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق بنگلہ دیش میں اب اس نایاب نسل کے ٹائیگرز کی تعداد صرف 100 کے قریب باقی رہ گئی ہے۔ دس سال قبل ان کی تعداد 440 تھی اور حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے سروے کے صحیح طریقہ کار کے استعمال سے ان کی تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی ہے تاہم غیرقانونی شکار بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ چھاپے کے دوران مبینہ غیرقانونی شکاریوں نے فائرنگ شروع کر دی اور پولیس اہلکاروں نے پھر جوابی کاررائی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم کچھ مقامی ذرائع ابلاغ نے پولیس نے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ افراد کو گولی مارنے سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ بنگلہ دیش نے بنگال ٹائیگر کی آبادی میں کمی کی خبروں کے بعد اس کے غیرقانونی شکاریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
دنیا میں اس وقت کھلے جنگلوں میں بنگال ٹائیگرز کی کل آبادی 2300 کے قریب ہے، جن میں بیشتر بھارت اور بنگلہ دیش میں رہتی ہے۔ نیپال، بھوٹان اور میانمر میں بھی بنگال ٹائیگر کی محدود تعداد پائی جاتی ہے۔







