،تصویر کا کیپشنجنگلی حیات کے پیشہ ور فوٹوگرافر اینڈی روز نے حال ہی میں انڈیا کے رنتھمبھور جنگل میں بنگال کی ایک شیرنی اور اس کے بچوں کی تصویریں بنائی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنروز کہتے ہیں کہ وہ شیر سے صرف سے دو میٹر دور تھے اور گاڑی کے اندر شیر آپ کو خوراک نہیں سمجھتے اور نظرانداز کر دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میں پہلی جیپ میں سوار ان سے ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر رہوں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ شیر کے بچے مجھے دیکھ کر پریشان ہو جائیں کیونکہ وہ پہلی مرتبہ کسی انسان کو دیکھ رہے ہوں گے۔
،تصویر کا کیپشنبلی کی دیگر نسلوں کے برعکس شیر تیرنے کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور شدید گرمیوں میں جھیلوں اور ندی نالوں میں وقت گزارتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنافسوس ناک بات یہ ہے کہ جنگلات کی کٹائی اور شکار کی وجہ سے ان کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے اور ان کی بنگال ٹائیگر کی آٹھ میں تین اقسام پہلے ہی ناپید ہو گئی ہیں اور دیگر کی بقا بھی خطرے میں ہے۔
،تصویر کا کیپشنہزاروں کی تعداد میں بنگال ٹائیگر اور ان کی کئی اقسام بنگلہ دیش، بھوٹان، انڈیا اور نیپال میں بستی تھیں لیکن حالیہ دہائیوں میں ان کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنان کی تعداد میں تیزی سے کمی کی بڑی وجوہات میں جنگلات کا کٹاؤ، موافق قدرتی ماحول، ان کی خوراک کی کمی اور غیر قانونی شکار جیسے عوامل شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگرمی کی شدت 44 ڈگری سنٹی گریڈ کو چھو رہی تھی اور روز کو جن مناظر کی تلاش تھی ان کو جیپ میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے انھیں دو دن ہو گئے تھے۔ نور نامی شیرنی کے تین ماہ کے بچے ہیں جنھیں شدید گرمی سے بچانے کےلیے اس نے رنتھمبھور کے نیشنل پارک کے ایک غار میں چھپا رکھا تھا۔