مینڈک کی جھاگ جلے کے علاج میں مددگار

سائنسدان یہ جھاگ جنوبی امریکہ کے ٹرینیڈاڈ جزیرے کے ٹنگرا مینڈکوں سے متاثر ہوکر بنا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہDr Paul Hoskisson

،تصویر کا کیپشنسائنسدان یہ جھاگ جنوبی امریکہ کے ٹرینیڈاڈ جزیرے کے ٹنگرا مینڈکوں سے متاثر ہوکر بنا رہے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹی نسل کے مینڈک کی اپنے انڈوں کی حفاظت کے لیے پیدا کرنے والی جھاگ جھلس کےزخمی ہونے والے مریضوں کے زخموں کے علاج کے لیے بہترین ثابت ہوسکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جھاگ کے بلبلے ناصرف زخم تک دوا پہنچا سکتے ہیں بلکہ زخم پر موجود پٹی اور متاثرہ جلد کے درمیان حفاظتی دیوار کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔

برطانیہ کی سٹریس کلائیڈ یونی ورسٹی کی جانب سے اس جھاگ کی مصنوعی طور پر تیاری شروع کردی گئی ہے۔

سائنسدان یہ جھاگ جنوبی امریکہ کے ٹرینیڈاڈ جزیرے کے ٹنگرا مینڈکوں سے متاثر ہوکر بنا رہے ہیں۔

پانی اور خشکی میں رہنے والے یہ جانور باہمی ملاپ کے بعد بلبلوں کی شکل کی جالی بناتے ہیں جو ان کے انڈوں کو بیماریوں، موسم اور کسی دوسرے جانور سے محفوظ رکھتی ہے۔

اس جھاگ میں کم از کم چھ مختلف اقسام کی پروٹین موجود ہوتی ہیں جو اسے اپنی ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں اور مضبوط بناتی ہیں۔

ڈاکٹر پال ہاسکسن اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان پروٹین میں سے چار کے مرکب پر کام کرلیا ہے اور اب انھیں اپنی مرضی کی ترکیب سے استعمال کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔

آزمائش کے طوپر جب انھوں نے ڈائی میں مصنوعی طور پر تیار شدہ جھاگ بھری تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ سات دنوں تک ایک متوازن شرح کے ساتھ جھاگ خارج کرتی رہی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی انھیں بالکل مینڈک جیسی جھاگ کی تیاری کے لیے مزید کچھ وقت درکار ہے

،تصویر کا ذریعہDr Paul Hoskisson

،تصویر کا کیپشنسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی انھیں بالکل مینڈک جیسی جھاگ کی تیاری کے لیے مزید کچھ وقت درکار ہے

اگلے دن انھوں نے اسے انٹی بائیوٹک دوا وینکومائسین سے بھرا، مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ دوا کا اخراج اور لیبارٹری میں موجود متاثرہ نمونوں پر اس کا اثر، اس ہی طرح ہوا جس کی توقع کی گئی تھی۔ یہ خلیات پر انھیں نقصان پہنچائے بغیر اثرانداز ہوئے تھے۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی انھیں بالکل مینڈک جیسی جھاگ کی تیاری کے لیے مزید کچھ وقت درکار ہے۔

ڈاکٹر ہاسکسن کہتے ہیں ’متوازن جھاگ کی تیاری میں ہمارا تقریباً نصف سفر مکمل ہوگیا ہے۔ ایک بار ہم جھاگ مکمل طور پر تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں پھر ہم اسے مریضوں پر آزما سکیں گے، تاہم اس عمل میں ابھی کئی سال کی تاخیر ہے۔‘

ڈاکٹر ہاسکسن کہتے ہیں کہ ہسپتالوں اور دواخانوں میں پہنچنے میں اگرچہ کہ ابھی اس جھاگ کو کافی وقت ہے تاہم یہ بعد میں جھلس کر زخمی ہونے والے اور زخموں میں انفیکشن کا شکار مریضوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ جھاگ شفایاب کرنے والے خلیوں کی حفاظت کرنے کے ساتھ ان تک دوا کی بھی ترسیل کرسکے گی۔‘

سائنسدان اپنا ابتدائی کام لیورپول میں ہونے والی مائیکرو بائیولوجی سوسائیٹی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کررہے ہیں۔