بھارت میں ڈانسنگ فراگ کی 14 اقسام دریافت

،تصویر کا ذریعہAP
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنوبی بھارت کے جنگلوں میں مینڈکوں کی 14 نئی اقسام دریافت کی ہیں۔
ان مینڈکوں کو عرف عام میں رقاص مینڈک یا ’ڈانسنگ فراگ‘ کہا جاتا ہے۔
انھیں یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ ان نسلوں کے مینڈک کے نر جنسی ملاپ کے موسم میں اپنے پاؤں سے غیر معمولی قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔
بہرحال سائنسدانون نے خبردار کیا ہے کہ نئی دریافت شدہ نسل کے مینڈکوں کی 80 فی صد آبادی غیر محفوظ علاقوں میں رہتی ہے اور یہ کہ وہ اپنی جائے پیدائش پر کم یاب ہوتے جا رہے ہیں۔
ان کی دریافت جنوبی بھارت کے جنگلوں میں 12 برسوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔
اس دریافت کے نمائندہ سائنسداں ستیابھاما داس بیجو نے بی بی سی تمل سروس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ دریافت انتہائی غیر متوقع ہے اور وہ بھی ایک ہی ساتھ اتنی اقسام کی دریافت۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان نئے دریافت شدہ مینڈکوں کی خاصیت سائنسی طور پر یہ کہی جا سکتی ہے کہ یہ جنسی ملاپ کے موسم میں اپنی ماندہ کو متوجہ کرنے کے لیے اپنے پاؤں کو مختلف قسم سے ہلاتے ہیں۔‘
نر مینڈکوں کے پاؤں کے ہلانے میں ان کا سیدھا کرنا یا پھیلانا، ان کا لمبا کرنا اور دونوں جانب پاؤں کا پٹخنا شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنسدانوں کی ٹیم کی یہ دریافت گذشتہ دنوں سری لنکا سے شائع ہونے والے جرنل سیلون جرنل آف سائنس میں شائع ہوا۔
یہ تحقیق بھارت کے مغربی ساحل کے پہاڑی سلسلوں کے جنگلوں میں کی جا رہی ہے اور یہ علاقہ ریاست مہاراشٹر کے جنوب میں آتا ہے۔
اس سے قبل سنہ 2010 میں انہی علاقوں میں انتہائی چکمدار قسم کے مینڈکوں کی ایک نسل دریافت کی گئی تھی۔
جبکہ سنہ 2009 میں جنوبی بھارت کے انہی جنگلوں میں گھونسلہ بنانے والے مینڈک کی قسم پہلی بار دریافت کی گئی تھی۔







