فنکاروں کی برہنہ تصاویر چرانے پر امریکی شہری پر فرد جرم عائد

،تصویر کا ذریعہepa
امریکہ میں حکام نے مشہور شخصیات کے جی میل اکاؤنٹس اور آئی کلاؤڈ سے برہنہ تصاویر اور ویڈیو چرانے کے جرم میں ایک شخص پر فردِ جرم عائد کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاست پینسلوینیا کے رہائشی 36 سالہ شخص رائن کولن نے اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے۔
استغاثہ نے ملزم کے لیے 18 ماہ قید کی سزا تجویز کی ہے جبکہ جج کے پاس اختیار ہے کہ وہ مجرم کو پانچ سال تک قید کی سزا سنا سکتے ہیں۔
اُن پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک سافٹ ویئر کی ذریعے مختلف فنکاروں سمیت کئی افراد کے پاس ورڈ اور لاگ ان کا پتہ لگایا۔
پینسلوینیا کے محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ مجرم نے نومبر سنہ 2012 سے ستمبر 2014 کے دوران 100 سے زائد افراد کی معلومات چرائی ہیں۔
مجرم نے گوگل اور ایپل کی جانب سے مختلف افراد کو بھیجی گئی جھوٹی ای میلز کے ذریعے اُن کی اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کیں۔
رائن کولن نے آئی کلاؤڈ کے کم سے کم 50 اکاؤنٹس اور جی میل کے 72 اکاؤنٹس کی معلومات چرائیں۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے آن لائن ڈیٹا کے ذریعے مختلف افراد کو تلاش کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’معلومات جاننے کے سافٹ ویئر کے ذریعے انھیں ایپل آئی کلاؤڈ میں موجود تمام ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گئی اور متاثرین میں 18 فنکار بھی شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر لاس اینجلس میں مقیم ہیں۔ ڈیٹا میں برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود تھیں۔‘
ان فنکاروں کے نام جاری نہیں کیے گئے لیکن سنہ 2014 میں اداکارہ جینیفر لورینس، کیٹ اوپٹن اور میری الزیبتھ سمیت کئی فنکاروں کے آئی کلاؤڈ سے ڈیٹا چوری ہوا ہے۔
رائن کولن پر فنکاروں کی برہنہ تصاویر دوسرے افراد کو دکھانے کے لیے آن لائن جاری کرنے کا الزام نہیں ہے۔
لاس اینجلس میں ایف بی آئی کے نائب ڈائریکٹر نے کہا کہ ’غیر قانونی طور پر مختلف افراد کی ذاتی معلومات تک رسائی سے مسٹر کولن نے پرائیویسی کی خلاف ورزی کی ہے اور کئی افراد کو جذباتی دباؤ، شرمندگی اور عدم تحفظ کے خدشے سے دوچار کیا ہے۔‘







