ایپل کی امریکی حکومت کے موقف پر شدید تنقید

،تصویر کا ذریعہGetty
آئی فون بنانے والی امریکی کمپنی ایپل نے امریکی محکمہ انصاف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کردار کشی اور اپنے بے بنیاد دعوؤں سے کمپنی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف اور کمپنی کے درمیان تنازع اس بات پر ہے کہ وہ سان برنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کے آئی فون کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ایپل سے فون کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ایف بی آئی کے پاس اس سلسلے میں عدالت کا ایک حکم نامہ بھی جس میں کمپنی سے مدد کے لیے کہا گیا ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اس کے دائرے اختیار سے باہر ہے اور وہ اپنے صارفین کی نجی معلومات دینے کے حق میں نہیں ہے۔
امریکہ کے محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ایپل کا موقف خود اس ادارہ کو زنگ آلود کرنے کے مترادف ہے جو آزادی اور حقوق کی پاسبانی کی کوشش کر رہا ہے۔
گذشتہ ماہ ایف بی آئی نے عدالت سے یہ حکم حاصل کر لیا تھا جس میں ایپل سے ایک نیا سافٹ ویئر بنانے کو کہا گیا ہے جس سے حکومت کو فون تک رسائی حاصل ہوسکے۔
محکمہ انصاف نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ایپل نے آئی فون کی سکیورٹی کے متعلق چینی حکومت کی مدد کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایپل کے جنرل کاؤنسل بروس سیویل نے اس کے رد عمل میں رپورٹر کو فون پر بتایا کہ ’بیان پڑھنے کا لہجہ تو ایسا تھا جیسے قصوروار ٹھرایا جا رہا ہو۔‘
انھوں نے کہا ’ہر شخص کو اس بات سے آگاہ رہنا چاہیے کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے محمکۂ انصاف سے اتفاق نہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ برے اور امریکہ کے مخالف ہیں، اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوسکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استغثی کا دعوی ہے کہ ایپل کے خود کے ڈیٹا سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ چین نے گذشتہ برس کی پہلی سہ ماہی میں 4000 سے زیادہ آئی فون کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ایپل نے اس میں تقریا 74 فیصد تک اسے فراہم بھی کیا تھا۔
لیکن بروس سیویل کا کہنا ہے کہ عدالت میں ایف بی آئی کا یہ نیا موقف بہت ہی کمزور ذرائع پر مبنی ایسی اطلاعات ہیں جس کا مقصد غلط طریقے سے اس بات کو پیش کرنا ہے کہ ایپل نے آئی فون کے صارفین کی سکیورٹی کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے چینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا۔
محکمہ انصاف نے عدالت کو بتایا ہے کہ ایپل کا موقف ایف بی آئی کی تفتیش پر ایک طرح سے حملہ ہے اور وہ اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کرنا چاہتے ہیں جیسے وہی امریکیوں کی نجی زندگی کے سرپرست ہوں۔
اس کا کہنا ہے اس طرح کی ’بیان بازی نہ صرف غلط ہے بلکہ خود ان اداروں کو زنگ ذدہ کرنے لائق ہے جو ہماری آزادی اور حقوق کے بہترین محافظ ہیں: عدالتیں، چوتھی ترمیم، پرانی روایات، بہترین قوانین اور جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کے مختلف ادارے۔‘







