’ایپل کو فون ان لاک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی ریاست نیویارک کے ایک جج نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایف بی آئی کو اپنے کسی لاکڈ فون تک رسائی دے۔
بروکلین کے جج نے امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس درخواست کو مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اپیل منشیات کے ایک مقدمے میں آئی فون کو ان لاک کرے۔
اسی طرح کے ایک اور معاملے میں ایف بی آئی چاہتی ہے کہ ایپل سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق کے آئی فون کو ان لاک کرے تاہم ایپل نے ایف بی آئی کے مطالبے کو ’خطرناک‘ اور ’غیر معمولی‘ قرار دیا ہے۔
اگرچہ یہ دونوں مقدمات آپس میں منسلک نہیں ہیں تاہم ایپل کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیویارک کی عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے۔
ایپل کے ایک سینئر ترجمان نے صحافیوں کو کانفرنس کال میں بتایا کہ وہ پر امید ہیں کہ سان برنارڈینو کے جج نیویارک رولنگ کا بہت احتیاط سے تجزیہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے بالکل بھی متفق نہیں کہ دو صدیاں پرانے آل ریٹز ایکٹ کے ذریعے ایپل کو اس بات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ دسمبر کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں سید رضوان فاروق نے اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ایپل اور ایف بی آئی کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب ایف بی آئی کی جانب سے گذشتہ برس سان برنارڈینو میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملہ آور رضوان فاروق کےفون کو ’ان لاک‘ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک آئی فون کے مواد تک رسائی کا معاملہ ہے لیکن ایپل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسا سافٹ ویئر موجود ہی نہیں جو ایف بی آئی کا مقصد پورا کر سکے۔







