’ایپل آئی فون کو مزید محفوظ بنانے کے لیے کوشاں‘

ٹم کک کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی چاہتی ہے کہ ان کی کمپنی کینسر جیسا سافٹ ویئر بنا دے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنٹم کک کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی چاہتی ہے کہ ان کی کمپنی کینسر جیسا سافٹ ویئر بنا دے

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل ایسے نئے ’سکیورٹی فیچرز‘ کی تیاری کے لیے کوشاں ہے جن کا مقصد امریکی حکام کی جانب سے آئی فونز کو ہیک کرنے کی کوششوں کو ناممکن بنانا ہے۔

ایپل ملک کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے گذشتہ برس سان برنارڈینو میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملہ آور رضوان فاروق کےفون کو ’ان لاک‘ کرنے کی درخواست ماننے سے تاحال انکار کر رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایپل کے انجینیئرز تحقیق کر رہے ہیں کہ آئی فونز کو ان کے مواد تک اس کے مالک کی مرضی کے بغیر رسائی کی کوششوں سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے آئی فونز کے آپریٹنگ نظام کے ایک ایسے ’اپ گریڈ‘ پر کام شروع کر دیا ہے جس کے بعد اس طریقے سے آئی فون تک رسائی ممکن نہیں ہو سکے گی جس کے استعمال کی تجویز ایف بی آئی نے دی ہے۔

ایف بی آئی رضوان فاروق کے فون میں پہلے تو اس طرح کی تبدیلی چاہتی ہے جس سے تفتیش کار ڈیٹا مٹنے کے خطرے کے بغیر جتنی بار چاہیں پاس کوڈ کی آزمائشی کوشش کر سکیں۔

وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ فون میں تیزی سے پاس کوڈ کی تبدیلی کے لیے کوئی راستہ ہموار کیا جائے تاکہ پاس کوڈ کے مختلف مرکبات آزمائے جا سکیں۔

ایف بی آئی ’بروٹ فورس‘ نامی طریقہ استعمال کرنا چاہتی ہے جس کے تحت اس وقت تک ان تمام مرکبات کا استعمال کیا جانا ہے جب تک فون کھل نہ جائے۔

کسی بھی آئی فون میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی خفیہ کوڈ سے حاصل کی جا سکتی ہے اور اگر دس مرتبہ غلط کوڈ کا اندراج کیا جائے تو سارا ڈیٹا خودبخود حذف ہو جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنکسی بھی آئی فون میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی خفیہ کوڈ سے حاصل کی جا سکتی ہے اور اگر دس مرتبہ غلط کوڈ کا اندراج کیا جائے تو سارا ڈیٹا خودبخود حذف ہو جاتا ہے

ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایف بی آئی چاہتی ہے کہ ان کی کمپنی ’کینسر جیسا سافٹ ویئر بنا دے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک عوام کا تحفظ انتہائی اہم ہے اور انھیں خطرات کا سامنا کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

ٹم کک نے کہا کہ ’عوام کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے اور یہاں ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم نے سودا کیا تو عوام کو بہت بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئی فونز کی انکرپشن کو ہیک کرنے کا راستہ بنانے کے خطرات ان خدشات سے کہیں اہم ہیں کہ ایسا نہ ہوا تو حملوں کے بارے میں معلومات ضائع ہو جائیں گی۔

اس سوال پر کیا انھیں فکر ہے کہ ایپل ایسی تحقیقات میں رکاوٹ بن رہا ہے جو مستقبل میں ہونے والے حملوں کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، ٹم کا کہنا تھا کہ ’کچھ معاملات مشکل ہوتے ہیں اور کچھ درست اور کچھ یہ دونوں ہی ہوتے ہیں اور یہ ایسا ہی ایک معاملہ ہے۔‘

ستمبر 2014 کے بعد ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹ ہوجاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنستمبر 2014 کے بعد ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹ ہوجاتا ہے

ادھر ایف بی آئی کا موقف ہے کہ ایپل اپنے آلات کو درپیش سکیورٹی خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہی ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کہا ہے کہ ایپل کے پاس وہ تکنیکی مہارت موجود ہے جس کی مدد سے وہ ہر آئی فون تک رسائی کے لیے ’چور دروازے‘ کی تشکیل کے بغیر بھی رضوان فاروق کے فون کے مواد تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ستمبر 2014 کے بعد ایپل کی مصنوعات میں موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا خود بخود انکرپٹ ہوجاتا ہے۔

کسی بھی آئی فون میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی خفیہ کوڈ سے حاصل کی جا سکتی ہے اور اگر دس مرتبہ غلط کوڈ کا اندراج کیا جائے تو سارا ڈیٹا خودبخود حذف ہو جاتا ہے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ اس کا اپنا عملہ بھی ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ جن فائلوں کو نکالنا مقصود ہے وہ صارف کے پاس کوڈ کی انکرپٹڈ کی سے محفوظ ہوتی ہیں جس کا ریکارڈ ایپل کے پاس نہیں ہوتا۔