دنیا بھر میں مقبول ڈیٹنگ ایپس

،تصویر کا ذریعہThinkstock

دنیا کے بہت سے لوگ جہاں ڈیٹنگ ایپس سے مستفید ہوئے ہیں وہیں کئی افراد کو مایوسی ہوئي ہے اور بعض معاملات میں تو انھیں دھمکیاں ملیں یا پھر بلیک میل بھی کیا گیا ہے۔

تـجزیہ کرنے والی کمپنی ایپ ’اینی` کی طرف سے اس بارے میں بی بی سی کو جو ڈیٹا مہیا کیا گيا ہے اس سے ایسی ایپس کے رجحانات کا بھی پتہ چلتا ہے۔

سنہ 2015 میں دنیا کے 50 سب سے زیادہ ایپس استعمال کرنے والے ممالک میں دو ہی ایپس کے نام سب پہ غالب نظر آتے ہیں، بدو (Badoo) اور ٹنڈر (Tinder)۔

مقبولیت کے اعتبار سے سب سے معروف ایپ بدو کو 10 برس قبل متعارف کروایا گیا تھا اور یہ اس وقت 21 ممالک میں معروف ترین ڈیٹنگ ایپ ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA

دوسری جانب 18 ممالک میں پسند کی جانے والی ٹنڈر دوسرے نمبر کی ڈیٹنگ ایپ ہے۔

یورپ

ان دونوں ڈیٹنگ ایپس کے درمیان یورپ میں شدید مقابلے کی فضا پائی جاتی ہے۔ ٹنڈر کا غلبہ زیادہ تر شمالی ممالک میں ہے جبکہ بدو مشرقی اور جنوبی ممالک میں نمبر ایک پر ہے۔ جبکہ وہ ممالک جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے ان میں لُووو نمبر ایک پر ہے۔ لُووو جرمنی کےشہر ڈریسڈن میں تیار کی گئی ہے۔

ایشیا

ہر ملک کا مخصوص مزاج ہونے کے باعث ’بدو` اور ’ٹنڈر‘ کی مقبولیت ہمیں مشرقی ایشیا تک پھیلتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ مثال کے طور پر چین میں ’مومو‘ ڈیٹنگ ایپ سے ہٹ کے اب اپنی پہچان ایک سماجی رابطے کے نیٹ ورک کے طور پر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جبکہ بھارت میں صورت حال تھوڑی مختلف ہے۔ وہاں نئی نسل میں ڈیٹنگ ایپ کا رجحان نظر آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock

30 سالہ شروتی اور 31 سالہ نتن بھارت کے شہر دہلی کے رہائشی ہیں اور سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ ایک بھارتی ڈیٹنگ ایپ ٹرولی میڈلی (Truly Madly) کے زریعے ملے جو کہ ٹنڈر کے بعد بھارت میں دوسرے نمبر پر ہے۔ شروتی اور نتن گذشتہ سال نومبر میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔

شروتی کہتی ہیں ’ابتدا میں ہم نے اپنے والدین سے یہ بات چھپائی تھی کہ ہم ڈیٹنگ ایپ کے زریعے ملے تھے، تاہم جب انھیں معلوم ہوا تو انھوں نے اس بات کو قبول کرلیا۔ انھوں نے ہمارے رشتے کو اس لیے تسلیم کیا کیونکہ ہمارا تعلق ایک ہی مذہب اور ذات سے ہے۔‘

مشرق وسطیٰ

مصر اور سعودی عرب میں استعمال کی جانے والی ڈیٹنگ ایپس کو ان ممالک کے علاوہ بہت کم جگہوں پر استعمال کیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر مصر کے علاوہ ڈیٹنگ ایپ فرم (Frim) صرف روس میں استعمال کی جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح ’ہوز ہیئر‘ (Whose Here) خاص طور پر سعودی عرب اور کویت میں ہی استعمال کی جاتی ہے۔

42 سالہ عائشہ کویت میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں۔ عائشہ کا نام اصل نام یہاں پر ان کی درخواست پر ظاہر نہیں کیا جارہا کیونکہ کویتی معاشرے میں ڈیٹنگ کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

عائشہ کہتی ہیں ’میں بدو استعمال کرتی ہوں۔ میں دنیا بھر میں دوست ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

’میں پہلے ہی دن انھیں بتا دیتی ہوں کہ میں صرف دوستی کرنا چاہتی ہوں۔ زیادہ تر لوگ محض دوستی پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن چند لوگ ایسے بھی ہیں جو میری طرح صرف دوستی چاہتے ہیں۔‘

جنوبی امریکہ

جنوبی امریکہ میں بھی بدو پہلے نمبر پر ہے تاہم ٹنڈر اور بدو کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہے۔ جنوبی امریکہ میں دیگر ایپس کے مقابلے میں ڈیٹنگ ایپس زیادہ مقبول ہیں۔

افریقہ کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کے اچھے کنکشن نہ ہونے کے باعث ایپ مارکیٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہی ہے۔ کئی افراد اپنے ساتھی کی تلاش کے لیے ڈیٹنگ ایپس یا ویب سائٹس استعمال کرنے کی بجائے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں یا پھر ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔

جنوبی افریقہ وہ واحد افریقی ملک ہے جو ایپ استعمال کرنے والے 50 بڑے ممالک میں شامل ہے۔

آسٹریلیا اور برطانیہ کی طرح، کینیڈا اور امریکہ بھی نئے لوگوں سے ملنے کے لیے ٹنڈر کا ہی انتخاب کرتے ہیں جبکہ میکسیکو بھی جنوبی امریکہ کی پیروی کرتا نظر آتا ہے جہاں بدو کا استعمال زیادہ ہے۔ کینیڈو میں ٹنڈر روزمرہ کے استعمال کی 10 بہترین ایپس میں شامل ہے جبکہ امریکہ میں ٹنڈر کا نمبر 15واں ہے۔