’ڈیٹنگ ایپس ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا سبب‘

،تصویر کا ذریعہThinkstock
دنیا میں روڈ اور ٹریفک ایکسیڈنٹ کے بعد سب سے زیادہ نوجوان ایچ آئی وی ایڈز سے ہلاک ہو رہے ہیں۔
ہر چند کہ گذشتہ دس برسوں میں عالمی سطح پر ایچ آئی وی کے انفیکشن کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن بعض خطوں کے نوجوانوں میں اس میں اضافہ دیکھا گیاہے اور اس ’پوشیدہ وبا‘ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی کے ہر نئے آٹھ انفیکشن کا شکار ہونے والے میں ایک ایسا نوجوان شامل ہے جس کی عمر دس سے 19 سال کے درمیان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ وبا ہم جنس پرست، اور دونوں جنسوں سے تعلقات رکھنے والے نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کی وجوہات میں مختلف پارٹنروں کے ساتھ جنسی اختلاط ہے اور یہ موبائل کے ڈیٹنگ ایپ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔
تھائی لینڈ میں بینکاک کے رہنے والے 19 سالہ نیسٹ دوسرے ہم جنس پرست دوستوں سے ملنے اور ڈیٹ کرنے کے لیے گرنڈر اینڈ گراؤلر جیسے ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا ہے: ’پہلی ملاقات میں ہم بستری نہیں کرتا بلکہ میں پہلے بات کرنا اور دوسرے شخص کو جاننا چاہتا ہوں۔ لیکن میرے بعض دوست صرف سیکس کے لیے ملاقات کرتے ہیں۔ اگر آپ گراؤلر پر جائیں تو دن میں 50 اور رات میں تقریبا 100 افراد آپ کو مل جائیں گے۔‘
نیسٹ محفوظ سیکس کرتے ہیں لیکن اپنے معمول کے دوستوں کے ساتھ احتیاط نہیں برتتے۔ انھوں نے ہمت کرکے اپنا ایچ آئی وی ٹیسٹ کرایا اور انھیں یہ جان کر سکون ملا کہ وہ اس سے بری ہیں۔
بینکاک میں ایچ آئی وی ایڈس کے لیے یونیسیف کی علاقائی مشیر ونگ سائی چینگ کا کہنا ہے کہ ان سائٹوں کی وجہ سے بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایچ آئی وی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اس میں ایک کے ساتھ ایک کی بات نہیں ہے بلکہ ایک کے ساتھ کئی کی بات ہے اور اس لیے خطرہ بھی کئ گنا بڑھ جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہر چند کہ ایپ سے ايچ آئی انفیکشن میں اضافے کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے تاہم اس بارے میں ’خطرے کی گھنٹی بجانے‘ کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عنفوان شباب روایتی طور پر وہ زمانہ ہوتا ہے جب نوجوان زیادہ آزادی حاصل کرنے کے لیے مختلف اقسام کے تجربے کرتے ہیں اور موبائل فون کا حصول اور سوشل میڈیا کی مقبولیت نے انھیں اظہار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
ایسے میں یونیسیف جیسے ادارے ایپ کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ڈیٹنگ ایپ والی کمپنیاں اپنے صارفین کو ذمہ دارانہ عمل کی ترغیب دیں۔
مجموعی طور پر تین کروڑ 53 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں جن میں 21 لاکھ نوجوان ہیں۔ ان میں 56 فی صد لڑکیاں ہیں اور 85 فی صد سہارا کے وسیع علاقے میں ہیں۔ اس کے بعد جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ایچ آئی سے متاثر لوگ رہتے ہیں۔ عالمی پیمانے پر تقریبا 830 نوجوان ہر روز ايچ آئی وی انفیکشن کی زد میں آتے ہیں۔








