ایچ آئی وی وائرس کمزور پڑ رہا ہے: نئی تحقیق

،تصویر کا ذریعہSPL
ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایچ آئی وی وائرس ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے جس کے باعث یہ کم مہلک ہو رہا ہے اور اس میں مرض پھیلانے کی قوت کم ہو رہی ہے۔
آکسفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم کی جانب سے کی جانی والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایچ آئی وی کے وائرس کی شدت میں کمی آئی ہے اور یہ انسانی قوت مدافعت کے لحاظ سے ڈھل رہا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن کو ایڈز کا مرض بننے میں دیر لگ رہی ہے اور اس تبدیلی کے باعث اس مرض ہر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایچ آئی وی کے وائرس میں تبدیلی آتی جائے گی ویسے ویسے یہ وائرس بے ضرر ہوتا جائے گا۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور ان کے جسم میں ایچ آئی وی وائرس اور دفاعی نظام کے درمیان جنگ چل رہی ہوتی ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس قوت مدافعت سے بچنے کا ماہر ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ ایسے جسموں میں داخل ہوتا ہے جس کی قوت مدافعت بہت مضبوط ہوتی ہے۔
آکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ گولڈر کا کہنا ہے: ’جب وائرس ایسے جسم میں داخل ہوتا ہے تو یا تو ختم ہو جاتا ہے یا پھر زندہ رہنے کے لیے اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے۔ اور اگر یہ وائرس اپنے آپ میں تبدیلی لاتا ہے تو اسے اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہوتی ہے۔‘
پروفیسر فلپ گولڈر کا کہنا ہے: ’اس تبدیلی کی قیمت ہوتی ہے اس کی کمزوری۔ اور اس کے کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ ایچ آئی وی کے ایڈز میں منتقل ہونے میں زیادہ وقت لگنا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کمزور وائرس دیگر افراد میں منتقل ہوتا ہے اور مزید کمزور پڑ جاتا ہے۔
آکسفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے وائرس کے کمزور پڑنے کے عمل کو بوٹسوانا میں دیکھا جہاں پر ایچ آئی وی وائرس طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کے بعد انھوں نے جنوبی افریقہ کا مشاہدہ کیا جہاں یہ وائرس ایک دہائی قبل ہی آیا ہے۔
پروفیسر گولڈر نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ بات بہت دلچسپ ہے۔ بوٹسوانا میں اس وائرس کی قوت جنوبی افریقہ کے مقابلے میں دس فیصد کم ہے۔ ہم اس وائرس کا ارتقا دیکھ رہے ہیں اور یہ عمل حیرت انگیز تیزی سے ہو رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’وائرس کمزور پڑ رہا ہے اور اس کی مرض پھیلانے کی قوت کم پڑتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس وائرس پر قابو پانا ممکن ہے۔‘







