امریکی جج کا ایڈز پھیلانے سے باز رہنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہThinkStock
امریکی ریاست سیاٹل میں ایک جج ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کو یہ بیماری پھیلانے سے باز رہنے اور اپنا علاج کروانے حکم دیا ہے۔
اس شخص نے گذشتہ چار برس میں آٹھ افراد کو اس بیماری میں مبتلا کیا ہے۔
عدالتی دستاویزات میں اس شخص کو ’اے او‘ کے مخفف سے مخاطب کیا گیا ہے اور اس سے کہا گیا ہے کہ وہ علاج کے لیے آئے اور مستقبل میں اپنے جنسی ساتھیوں کو اس بیماری سے بچانے کے لیے انتظامات کرے۔
عدالتی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس حکم کا مقصد جنسی تعلق کو مجرمانہ رنگ دینا نہیں بلکہ عوام کا تحفظ ہے۔
اگر مذکورہ شخص عدالت کے حکم کی پاسداری نہیں کرتا تو اسے جرمانے اور قید کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکہ میں بیماریوں سے بچاؤ اور تحفظ کے مرکز کے مطابق ملک میں ہر برس 50 ہزار نئے افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوتے ہیں۔
ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وائرس کا شکار 11 لاکھ افراد میں سے 16 فیصد اس بات سے لاعلم ہیں کہ ان میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔
سیاٹل کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ’اے او‘ میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص 2008 میں ہوئی تھی اور 2010 سے 2014 کے دوران اس نے آٹھ افراد کو یہ بیماری لگائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دستاویزات کے مطابق اس نے ایسا ایڈز اور محفوظ طریقے سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں پانچ مرتبہ ہدایات لینے کے باوجود کیا۔
سیاٹل کاؤنٹی کے صحتِ عامہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر میتھیو گولڈن نے سیاٹل ٹائمز کو بتایا کہ ’ہمیں جنسی رویوں کو مجرمانہ رنگ دینے کی کوشش نہیں کر رہے۔ ہم تو عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر فرد کو وہ تحفظ ملے جو اسے درکار ہے۔‘







