ریپ کے جھوٹے الزامات سے بچانے کی ایپ

یہ ایپ اسی وقت کا کرے گی جب اس کے کیمرے کے سامنے انسانی چہرے آئیں گے

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنیہ ایپ اسی وقت کا کرے گی جب اس کے کیمرے کے سامنے انسانی چہرے آئیں گے

ریپ کے جھوٹے الزامات سے بچنے کے لیے ایک ایسی ایپلیکیشن تیار کی گئی ہے جو باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کیے جانے کی گواہ بنےگی۔

’وی کونسنٹ‘ یا ’رضامندی‘ نامی اس ایپلیکیشن کے ذریعہ جنسی تعلقات قائم کرنے سے پہلے صارفین 20 سیکنڈ کا ایک ویڈیو کلپ بنا کر بتا سکتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے والے ہیں۔

یہ ایپ اسی وقت کام کرے گی جب اس کے کیمرے کے سامنے انسانی چہرے آئیں گے اور جنسی تعلقات قائم کرنے والے دونوں لوگ صاف الفاظ میں ’یس‘ یعنی ’ہاں‘ کہیں گے۔

لیکن کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس ایپ کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انگلینڈ اور ویلز میں کام کرنے والی ’ریپ کرائیسز‘ نامی امدادی تنظیم کی ترجمان کیٹی رسل نے بی بی سی نيوز بيٹ سے سے بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ ’اگر کوئی کیمرے کے سامنے جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے ’یس‘ کہہ رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ رضامند ہے۔ رضامندی مکمل آزادی کے ساتھ، مکمل مرضی سے دی جانی ضروری ہے۔‘

’ویڈیو کافی نہیں‘

کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس اپلی کیشن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس اپلی کیشن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

رسل کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی کو ڈرا دھمکا کر ویڈیو بنائی گئی ہو تو اس کا پتہ نہیں چلے گا۔‘ ان کے خیال میں ’ایبیوزیو یا کنٹرولنگ ریلیشن‘ یعنی پرتشدد اور تحقیر آمیز جنسی تعلقات میں بھی کسی سے ’جبراً رضامندی‘ کی ویڈیو بنوائی جا سکتی ہے۔

برطانیہ کی ہی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ایپ سے ایسا لگتا ہے جیسے برطانیہ میں ریپ کے جھوٹے الزامات عائد کرنا عام بات ہے۔

حال ہی میں برطانیہ میں ایک سرکاری ادارے کو تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں ریپ کے مقدمات میں عائد کیے جانے والے جھوٹے الزامات کی تعداد بہت کم ہے۔

اس سےقبل بھی ایسی ایپس لانچ ہو چکی ہیں جن میں ’گڈٹوگو‘ یا ’سب ٹھیک ہے‘ نامی ایپلیکیشن میں بہت سے لوگ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے رضامند ظاہر کرتے تھے، لیکن یہ پہلی بار ہے جب رضامندی کی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے۔

ڈیٹا سات سال تک رہے گا۔

ایپلیکیشن بنانے والے امریکی ڈویلپرز کے مطابق اس ایپ میں ’رضامندی پر تفصیلی بات چیت کی گنجائش ہے جس سے اس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکے گی۔‘

ان کے مطابق اگر ایپ کو لگے گا کہ یہ معاملہ اتفاق رائے کا نہیں ہے تو وہ ریکارڈنگ بند کر دے گی اور صارفین سے دوبارہ کوشش کرنے کو کہے گی۔

یہ ایپ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ کہ اس ایپ کے ڈیٹا کو سات سال تک محفوظ رکھا جائے گا، جو اس کے بعد صرف قانونی اداروں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔