انڈیانا میں ایچ ائی وی وائرس کی ’وبا‘

انڈیانا کے گورنر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنانڈیانا میں صحت کے حکام حکومت متاثرہ افراد سے وابستہ سو سے زائد افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

امریکی ریاست انڈیانا کے گورنر مائیک پینس نے سکوٹ کاؤنٹی نامی علاقے میں ایچ آئی وائرس کے وبا جیسی صورت حال اختیار کرنے کے بعد صحت عامہ کی ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا ہے۔

ریاست کے غریب ترین علاقے سکوٹ کاؤنٹی میں نشہ کرنے والوں میں ایک دوسرے کے استعمال شدہ انجکیشن لگانا عام سی بات ہے۔ اس علاقے میں گذشتہ ہفتوں میں ایچ ائی وی وائرس کے 79 کیس سامنے آئے ہیں۔

گورنر مائک پینس نے صحت کے حکام کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ پرانے انجکیشنوں کے بدلے نئے انجیکشن فراہم کرنے سے متعلق سرکاری پروگرام نافذ کریں حالانکہ ماضي میں وہ اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ایچ آئی وہ وائرس ہے جو ایڈز کی بیماری پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

گورنر مائک پینس کا کہنا تھا: ’سکوٹ کاؤنٹی میں ایچ آئی وی نے وبا کی شکل اختیار کر لی ہے، لیکن یہ صرف سکوٹ کاؤنٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری ریاست کا مسئلہ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’صحت کی ہنگامی صورت حال کے اعلان کے نتیجے میں ریاست کی جانب سے ملنے والی اضافی امداد کے بعد مجھے امید ہے کہ ہم لوگ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔‘

اس وبا کی سب سے پہلے جنوری میں شناخت کی گئی تھی اور تب سے اب تک حکام نے 79 افراد کو اس خطرناک وائرس کی گرفت میں پایا ہے۔ گذشتہ مہینے ایسے 26 معاملات سامنے آئے تھے۔

ایچ آئی وائرس

،تصویر کا ذریعہSPL

،تصویر کا کیپشنایچ آئی وہ وائرس ہے جو ایڈز کی بیماری پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب ہنگامی حالت کا اعلان کر دینے کے بعد اس بیماری سے نمٹنے کے لیے انھیں اضافی ذرائع اور امداد حاصل ہو گی جو کہ ’اس وائرس کو قابو پانے میں مدد گار ہو گی جو اب وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔‘

ریاست میں وبا کی روک تھام کے ماہر پیم پونٹونس کا کہنا ہے کہ تقریباً سارے معاملات ان افراد کے ہیں جو غیرقانونی طور پر منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ انجیکشنوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

بیشتر متاثرہ افراد خود کو ’اوپانا‘ نامی درد کش دوائی کا ٹیکہ لگانے کے لیے ایچ وائی وائرس سے متاثر افراد کے انجیکشن استعمال کرتے ہیں۔

حکام کو خدشہ ہے کہ یہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے اس لیے وہ متاثرہ افراد سے وابستہ سو سے زائد افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کا علاج کیا جا سکے اور اس وائرس پر قابو پایا جا سکے۔