’منشیات کے ذاتی استعمال‘ کو غیرمجرمانہ قرار دلوانے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہistock
بی بی سی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی جانب سے دنیا میں منشیات کو رکھنے اور اس کے استعمال کو غیرمجرمانہ قرار دلوائے جانے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔
منشیات اور جرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر (یو این او ڈی سی) نے کم از کم ایک ملک کی جانب سے دباؤ کے بعد اس سلسلے میں ایک مقالے کی اشاعت بھی روک دی گئی ہے۔
افشا کی جانے والی دستاویز میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کے ارکان ’منشیات کے ذاتی استعمال‘ کو غیرمجرمانہ بنانے پر غور کریں۔
دستاویز میں مزید کہا گیا تھا کہ منشیات کے استعمال کے سلسلے میں ’گرفتاریاں اور قید کی سزا غیر متناسب اقدامات ہیں۔‘
یہ دستاویز ویانا میں یو این او ڈی سی کی ایچ آئی وی کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر مونیکا بیگ نے آئندہ ماہ کوالالمپور میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کرنا تھا۔
یو این او ڈی سی منشیات کی بین الاقوامی کنونشنز کی نگرانی اور تعمیل پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
ادارے کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تنظیم کی طرف سے اس دستاویز کی بطور پالیسی کے منظوری نہیں دی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادارے کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بیگ ایک ’درمیانی درجے کی اہلکار‘ ہیں جو صرف اپنا پیشہ ورانہ نقطۂ نظر پیش کر رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہunodc
یو این او ڈی کا یہ دستاویز <link type="page"><caption> یہاں پڑھا جا سکتا ہے</caption><url href="http://news.bbc.co.uk/1/shared/bsp/hi/pdfs/19_10_11_unodcbriefing.pdf" platform="highweb"/></link>
اپنے پاس منشیات رکھنا اقوام متحدہ کے کئی ارکان ممالک میں ایک جرم ہے۔
لیکن دوسری طرف منشیات کے استعمال کو غیرمجرمانہ قرار دینے پر مخالفین بھی موجود ہیں۔
برطانیہ کی وزارت داخلہ مسلسل یہ کہتی آئی ہے کہ اگر منشیات کو غیر مجرمانہ بنا دیا جاتا ہے تو ان کے نقصانات کا اندازہ نہیں ہوگا جو منشیات سے لاحق ہوتے ہیں۔
یو این او ڈی سی پر ایک طویل عرصے سے دباؤ ہے کہ وہ منشیات رکھنے اور اس کے استعمال کو غیر مجرمانہ بنانے پر ایک واضح بیان دے۔
تاہم عالمی ادارہ صحت اور یو این ایڈز سمیت دیگر اقوام متحدہ کے ادارے صحت اور انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر منشیات کے استعمال کو جرم قرار دینے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔







