’تین ہزار سے زائد نمونوں میں ممنوع ادویات کا استعمال‘

ایتھلیٹکس میں بڑے پیمانے پر ڈوپنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنایتھلیٹکس میں بڑے پیمانے پر ڈوپنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں

عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ برس دنیا بھر میں کیے گئے 283,304 ٹیسٹوں میں سے تین ہزار سے زائد نمونوں میں ممنوع ادویات کا استعمال پایا گیا ہے۔

تاہم اِن اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سالوں کے مقابلے میں تمام کھیلوں میں کیے جانے والے ٹیسٹوں میں بھی اضافہ ہواہے، جبکہ کھلاڑیوں میں ڈوپنگ یا ممنوع ادویات کے استعمال میں دس فیصد سے زائد کی کمی آئی ہے۔

ایتھلیٹکس میں بڑے پیمانے پر ڈوپنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

واڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ دس فیصد سے زائد ایتھلیٹ کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔

اگست میں چین کے شہر بیجنگ میں منعقدہ عالمی ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں 66 ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا جن کو اس سے قبل ڈوپنگ کی پابندیوں کا سامنا تھا۔

ایتھلیٹکس کی گورننگ باڈی عالمی ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن (آئی اے اے ایف) نے تقریباً 600 سے 700 کھلاڑیوں کے 1,400 سے زائد ٹیسٹ کیے جو چین میں موجود کھلاڑیوں کی کل تعداد کا ایک تہائی بنتا ہے۔

کینیا سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی جوائس زیکاری اور کوکی میننگا اِس ٹیسٹ میں ناکام رہے۔

آئی اے اے ایف کا کہنا ہے کہ نمونوں کو منجمد کر کے جمع کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں جیسے جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے، اِن نمونوں کا دوبارہ سے تجزیہ کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ حاصل کیے گئے نمونوں میں غلط یا ممنوع ادویات کے استعمال کے شواہد میں کمی آئی ہے۔

خون اور پیشاب کے نمونوں میں ممنوع اشیا کے سامنے آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایتھلیٹ ممنوع ادویات کا استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ممنوع مواد قدرتی طور جسم میں بن سکتا ہے۔

قومی اینٹی ڈوپنگ تنظیموں نے سب سے زیادہ ٹیسٹ چین میں 13,180، روس میں 10,556، جرمنی میں 9,073 ، فرانس میں 7,434، امریکہ میں 7,167، اور اٹلی میں 6,506 ہوئے۔