شمسی توانائی والے ہوائی اڈے کا خرچ کتنا؟

اس برس اگست کے مہینے میں کارگو ٹرمینل کے پاس 12 میگا واٹ کا سولر پلانٹ نصب کرنے کے بعد ایئر پورٹ پوری طرح سے اپنی توانائی ضروریات شمشی توانائی سے حاصل کرتا ہے

،تصویر کا ذریعہCIAL.AERO

،تصویر کا کیپشناس برس اگست کے مہینے میں کارگو ٹرمینل کے پاس 12 میگا واٹ کا سولر پلانٹ نصب کرنے کے بعد ایئر پورٹ پوری طرح سے اپنی توانائی ضروریات شمشی توانائی سے حاصل کرتا ہے

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے کوچی شہر کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر جب جہاز اوپر منڈلا رہا ہو تو رن وے کے پاس ہی فضا میں چمکتے ہوئے بڑے بڑے سولر پینلز نظر آتے ہیں۔

اس ایئر پورٹ پر ایسے تقریبا 46 ہزار سولر پینلز ہیں جن کا کام چمکتے سورج کی روشنی کو اپنی گرفت لے کر اسے توانائي میں تبدیل کرنا ہے۔

کوچن ایئر پورٹ دنیا کا ایسا پہلا ہوائی اڈا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلتا ہے۔ اس کی ابتدا 2013 میں ایک چھٹے پروجیکٹ سے ہوئی تھی جب چار سو ایسے پینلز نصب کیے گئے تھے۔ اور جب یہ منصوبہ کامیاب ہوتا نظر آیا تو حکام نے اسے مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلانے کا فیصلہ کیا۔

اس برس اگست کے مہینے میں کارگو ٹرمینل کے پاس 12 میگا واٹ کا سولر پلانٹ نصب کرنے کے بعد ایئر پورٹ پوری طرح سے اپنی توانائی کی ضروریات شمسی توانائی سے حاصل کرتا ہے۔

ایئر پورٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وی جے کوریئن کا کہنا ہے کہ بجلی کا بل اتنا زیادہ آتا تھا کہ بالآخر ہمیں گرین انرجی کا ہی سہارا لینا پڑا۔

کوچن ایئر پورٹ بھارت کا ساتواں سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے جہاں سے ہفتے میں تقریباً ایک ہزار پروازیں جاتی ہیں اور اس پر 48،000 یونٹ بجلی خرج ہوتی تھی جس کا یومیہ تقریباً 336000 روپے کا خرچ آتا ہے۔

اب شمسی توانائی کا یہ پلانٹ ایئر پورٹ کی ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے اور اضافی بجلی ریاستی گرڈ کے پاس محفوظ رہتی ہے جو بارش کے موسم یا رات کے اوقات میں استعمال میں آتی ہے۔

اس پروجیکٹ کے تحت کارگو کمپلکس کے پاس 45 ایکڑ کے رقبے پر 46140 سولر پینلز لگائے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہPragit P Elayath

،تصویر کا کیپشناس پروجیکٹ کے تحت کارگو کمپلکس کے پاس 45 ایکڑ کے رقبے پر 46140 سولر پینلز لگائے گئے ہیں

مسٹر کوریئن کہتے ہیں کہ ملک کے دیگر ایئرپورٹوں نے کوچن ماڈل سے متعلق ان سے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائبیریا کی ایک ٹیم نے بھی شمسی توانائی کے متعلق مزید سمجھنے اور سیکھنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

کوچن ایئر پورٹ پر سولر پینلز کی تنصیب پر ساڑھے 90 ہزار ڈالر کا خرچ آیا اور اسے مکمل کرنے میں چھ ماہ کا وقت لگا۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس میں آنے والی لاگت چھ سال کے اندر نکال آئے گی۔ ابھی تک ایئر پورٹ کا کام کاج معمول کے مطابق چل رہا ہے۔

لیکن کچھ چیلینجوں کا بھی سامنا ہے۔ ایئرپورٹ آئندہ جنوری میں ایک اور بڑے انٹرنیشنل ونگ کا اضافہ کرنے والا ہے جس کے لیے مزید توانائی کی ضرورت ہوگی۔ اور اگر حکام کو ایئرپورٹ مکمل طور پر شمسی توانائی سے ہی چلانا ہے تو مزید سولر پینل نصب کرنے ہوں گے۔

کوچن نے تو راستہ دکھا دیا ہے اور بھارت کے اب دیگر ایئر پورٹ بھی شمسی توانائی کے حصول کے لیے تیزی سے کوشش میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ ملک کے بیشتر حصوں میں سال کے تقریباً 300 دن سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے جس سے شمسی توانائی کے امکانات بہت ہیں۔

اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ملک میں سولر پاور یا شمسی توانائی کی وسعت کو سنہ 2022 تک ایک لاکھ میگا واٹ تک بڑھانے کا تخمینہ رکھا ہے۔

شمشی توانائی کا سب سے بڑا فائدہ ماحولیات کے لیے ہے جس سے مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی آئیگي

،تصویر کا ذریعہCIAL.AERO

،تصویر کا کیپشنشمشی توانائی کا سب سے بڑا فائدہ ماحولیات کے لیے ہے جس سے مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی آئیگي

شمسی توانائی جوہری توانائی یا تھرمل پاور سے صاف ستھری بھی ہوتی ہے اور اب جبکہ عالمی حدت اور ماحولیات کی تبدیلی کی بحث کے دوران گرین ہاؤسز گیسوں کو کم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں بھارت جیسا ترقی پذیر ملک شمسی توانائی کے حصول سے اس حدف کو آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔

لیکن دھوپ کی اس قدر موجودگی کے باوجود یہ کام اتنا اسان بھی نہیں ہے۔

ٹاٹا پاور سولر کے سربراہ آشیش کھنّا کہتے ہیں ’ہمارے پاس گرڈ کا وہ مستحکم نظام نہیں ہے جو اس طرح کی توانائی کو لے سکے جس کی ہم بات کر رہے ہیں۔ اور توانائی کا معیار بھی بہت اہم بات ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہم بھارت میں قیمتوں کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں اور جب ہم چھت کے اوپر سے بجلی کی بات کر رہے ہیں تو لوگ اس کے لیے وہ مہنگے ساز و سامان خرید سکتے ہیں جو شاید اس کوالٹی کی توانائی کے لیے مناسب نہ ہوں جس کی ہم بات کرتے ہیں۔ فی الوقت چیلنج یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی معیار ہی نہیں ہے۔‘

کوچن کا سولر پاور پلانٹ سورج کی گرمی سے ایک کروڑ آٹھ لاکھ یونٹ کی بجلی پیدا کرے گا جو دس ہزار مکانات کے لیے ایک برس تک کے لیے کافی ہے۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ ماحولیات کے لیے ہے جس سے مضر صحت کیسوں کے اخراج میں کمی آئے گي۔