کوچی ایئر پورٹ شمسی توانائی سے چلنے والا دنیا کا پہلا ہوائی اڈہ

،تصویر کا ذریعہPragit P Elayath
بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ میں کوچی (کوچین) شہر کا بین الاقوامی ایئرپورٹ شمسی توانائی سے چلنے والا دنیا کا پہلا ہوائی اڈہ بن گیا ہے۔
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ اومن چینڈی نے 12 میگاواٹ کی صلاحیت والے سولر پاور پروجیکٹ کا منگل کو افتتاح کیا۔
اس پروجیکٹ کے لیے کارگو کمپلکس کے پاس 45 ایکڑ کے رقبے پر 46140 سولر پینلز لگائے گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس سے 50 سے 60 ہزار یونٹ بجلی روزانہ حاصل ہوگی۔
کوچّی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (سی آئی اے ایل) کے ڈائریکٹر اے سی کے نیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہوائی اڈے کو تقریباً 50 ہزار یونٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اور شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘
سی آئی ایل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح یہ دنیا کا پہلا ایئرپورٹ بن گیا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائي پر کام کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہCIAL.AERO
دوسری جانب وزیر اعلیٰ چینڈی کا کہنا ہے کہ ’ہوائی اڈے میں سولر پاور پروجیکٹ سے آئندہ 25 سالوں میں کاربن ڈائي آکسائیڈ کے اخراج میں 3 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی آئے گی جو تقریباً 30 لاکھ درخت لگانے کے برابر ہے۔‘
سی آئی اے ایل نے شمسی توانائی کے استعمال کا آغاز سنہ 2013 میں کیا تھا۔ سب سے پہلے 100 كلوواٹ کی صلاحیت والا سولر پاور پلانٹ لگایا گیا تھا۔
اور اس کے لیے آمد کے ٹرمینل کی عمارت کی چھت پر سولر پینلز لگائے گئے تھے اور اسے کولکتہ کی ایک کمپنی نے نصب کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رفتہ رفتہ اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاتا رہا یہاں تک کہ یہ ہوائی اڈہ پوری طرح سے شمسی توانائی سے چلنے والا دنیا کا پہلا ایئر پورٹ بن گیا ہے۔
سی آئی اے ایل کے منیجنگ ڈائرکٹر وی جے کورین نے اس پروجیکٹ کے وقت پر پورا ہونے پر خوشی کا اظہار کیا جبکہ بوش کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر نے کہا کہ بھارت میں 100 گیگا واٹ شمسی توانی پیدا کرنے کے حوصلہ مندانہ ہدف کو پورا کرنے کی صلاحیت ہے۔







