بھارت: موبائل فون کمپنیاں گرین توانائی کی جانب

بھارت میں تقریبا 90 کروڑ موبائل صارفین ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ 56 کروڑ ہی ان میں سے فعال ہیں

،تصویر کا ذریعہAgencies

،تصویر کا کیپشنبھارت میں تقریبا 90 کروڑ موبائل صارفین ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ 56 کروڑ ہی ان میں سے فعال ہیں
    • مصنف, شلپا کنن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی

بھارت میں تقریبا 90 کروڑ موبائل صارفین کی آسانی کے لیے سیلولر نظام کے اہم شعبے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں تاکہ لوگ جب چاہیں تب کال کر سکیں۔

اور اس پورے نظام کے سب سے اہم حصے موبائل ٹاورز کو ہمہ وقت 24 گھنٹے، سال کے 365 دن جاری رکھنے کے لیے بہت سی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

شہری علاقوں میں موجود ٹاورز کو عام طور پر عوامی گرڈ سے ہی بجلی مل جاتی ہے لیکن بھارت میں زیادہ تر مقامات پر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 60 فیصد سے زائد موبائل ٹاورز ڈیزل جنریٹروں سے چلتے ہیں۔

ہر ٹاور کو تقریباً اتنی ہی بجلی درکار ہے جتنی عام طور پر کسی شہری گھر میں خرچ ہوتی ہے۔

پورے ملک میں چار لاکھ سے زیادہ موبائل ٹاورز ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان ٹاورز کو اب آلودگی سے پاک توانائی سے چلائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں ہر سال صرف ٹیلی کام کے شعبے میں دو ارب لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے۔

ہر ایک ٹاور پر ہر دن پانچ سے 40 ہزار روپے تک کا ایندھن خرچ ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہر ایک ٹاور پر ہر دن پانچ سے 40 ہزار روپے تک کا ایندھن خرچ ہوتا ہے

ٹیلی کام محکمے نے بھی موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیزل کی کھپت کم کریں اور توانائی کے نئے ذرائع تلاش کریں۔

دیہی علاقوں میں 50 فیصد اور شہری علاقوں میں 20 فیصد کاربن کے اخراج میں کمی کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔

اس کا حل مخلوط توانائی میں ہے جس میں دوبارہ استعمال کے قابل تونائی اور گرڈ سے حاصل توانائی کا استعمال شامل ہے۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔

مینجمنٹ کنسلٹنسی کمپنی اے ٹي كیرني کےموہت رانا کہتے ہیں: ’اس ضمن میں شمسی توانائی سب سے اچھا حل ہے، لیکن اس کی پیداوار بطور خاص ابتدائی خرچ بہت زیادہ ہیں۔ تاہم ڈیزل کی کھپت کم کرنے کے طریقوں پر مسلسل کام جاری ہے۔‘

اے ٹي كیرني نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ٹیلی کام صنعت میں مجموعی طور پر کاربن اخراج کا نصف ڈیزل استعمال کی ہی وجہ سے ہوتا ہے۔

شمسی توانائی کو آلودگی سے پاک بہترین ایندھن قرار دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمسی توانائی کو آلودگی سے پاک بہترین ایندھن قرار دیا جا رہا ہے

بھارتی انفراٹیل ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کمپنی کے 33 ہزار سے زیادہ موبائل ٹاورز ہیں جن میں سے نو ہزار سے زیادہ ٹاورز گرڈ کی مستقل بجلی سے دور ہیں اور ان میں ڈیزل کا استعمال کیا جاتا ہے جو قدرے مہنگا ہے۔

بھارتی انفراٹیل کے دیویندر سنگھ راوت بتاتے ہیں: ’ایندھن ہمارے اخراجات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہر ایک ٹاور پر ہر دن پانچ سے 40 ہزار روپے تک کا ایندھن خرچ ہوتا ہے۔

’ایک ہزار سے زیادہ ٹاورز پر کمپنی توانائی کے دوسرے ذرائع کا استعمال شروع کر چکی ہے۔ لیکن یہ کام ٹیلی کام كمپنياں تنہا نہیں کر سکتی ہیں۔‘

بجلی کی پیداوار کے نئے طریقوں نے صنعت کاروں اور جدید طرز فکر والوں کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے۔

او ایم سي پاور ایک ایسی ہی کمپنی ہے جو دیہی علاقوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے چھوٹے چھوٹے پاور پلانٹ بنا رہی ہے۔

بھارت میں ہر سال صرف ٹیلی کام کے شعبے میں دو ارب لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبھارت میں ہر سال صرف ٹیلی کام کے شعبے میں دو ارب لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے

ان چھوٹے پاور پلانٹ میں سورج، ہوا اور بایو گیس جیسے ذرائع کا استعمال کر کے دور دراز کے علاقوں میں آلودگی سے پاک توانائی فراہم جا سکے گی۔

او ایم سي پاور کے انل راج کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بھارت میں توانائی کی کھپت میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بڑے بڑے توانائی پلانٹ ہیں لیکن ان کے ٹرانسمیشن کے نظام غیر موثر ہیں۔ اس لیے اب ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے پلانٹ بنائے جائیں جس سے وہاں کی ضروریات پوری ہوں۔‘

حالانکہ ابھی بھی سب سے بڑا چیلنج صاف یا آلودگی سے پاک توانائی کی فراہمی ہے اور اس کے لیے پیسے حاصل کرنے ہیں۔

کمپنیوں کو امید ہے کہ فون کی سہولیات فراہم کرنے والے ٹاورز ان کے صارفین ہوں گے اور جو اضافی توانائی بچ رہے گی وہ آس پاس کے رہائشی علاقوں میں تقسیم کی جا سکے گی۔