’بڑے بڑے لوگ آتے ہیں لیکن بجلی نہیں آتی‘

کٹھمنڈو میں گھوم پھر کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ خطے کے لوگوں کی ضروریات اور مجبوریاں ایک جیسی ہیں
،تصویر کا کیپشنکٹھمنڈو میں گھوم پھر کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ خطے کے لوگوں کی ضروریات اور مجبوریاں ایک جیسی ہیں
    • مصنف, صبا اعتزاز
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کٹھمنڈو

پرکاش نیپال کے رہائشی ہیں لیکن ان کی مشکلات سے دوچار زندگی کسی بھی متوسط طبقے کے پاکستانی شہری سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

وہ کٹھمنڈو کے ایک مندر میں کام کاج کر کے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں لیکن روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

<link type="page"><caption> توانائی کے شعبے میں علاقائی تعاون کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2014/11/141127_saarc_energy_situation_zs" platform="highweb"/></link>

ستم ظریفی یہ کہ ان کا گھر بجلی گھر کے بالکل سامنے ہے۔ یہی نہیں چند سال قبل سرکاری اہلکار اس کے صحن میں بجلی کا ایک ٹاور بھی لگا گئے۔ ٹاور کے ایک طرف بڑے بڑے لال حروف میں’خطرہ‘ لکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف خاندان کے کپڑے سوکھنے کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔

بچے ٹاور سے رسیاں لٹکا کر جھولا جھولتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کا اصل مقصد بجلی فراہم کرنا ہے کیونکہ ان کے گھر سے تو اکثر بجلی غائب ہی رہتی ہے۔

18ویں سارک اجلاس کے دوران جہاں متوسط علاقوں میں رہنے والوں کو کچھ دنوں کے لیے لوڈشیڈنگ سے چھٹکارا مل پایا، نہ ہی سارک سربراہان کی خطے میں توانائی پر تعاون کے مباحثے سے پراکاش کی زندگی میں کوئی فرق پڑا۔

پرکاش کے گھر میں بجلی کا ٹاور تو ہے لیکن بجلی نہیں آتی
،تصویر کا کیپشنپرکاش کے گھر میں بجلی کا ٹاور تو ہے لیکن بجلی نہیں آتی

’بڑے بڑے لوگ آنے سے بھی ہمارے یہاں بجلی نہیں آتی۔ دن کے اجالے میں بجلی آتی ہے، شام کو کھانا بنانے لگتے ہیں تو چلی جاتی ہے، کیا کریں، کیا ہو گا ہمارا؟‘

پاکستان کی طرح نیپال بھی توانائی کے بحران کا شکار ہے۔

نیپال میں ایک اندازے کے مطابق بجلی کی طلب 1400 میگا واٹ ہے لیکن صرف پیداوار 800 میگاواٹ ہے جو کہ موسم سرما میں اور کم ہو جائے گی۔ کچھ بجلی بھارت سے درآمد کی جا رہی ہے لیکن یہ مہنگی اور محدود ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سارک سربراہ کانفرنس میں توانائی کے تعاون پر معاہدہ تو ہو گیا لیکن عمل درآمد اسی وقت ہو سکتا ہے جب ان ممالک میں اس تعاون کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ ہو، جو کہ اس وقت تیار نہیں ہے۔

روزانہ دس سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے مقامی کاروبار اور چھوٹی فیکٹریاں سخت متاثر ہوتی ہیں جس سے ملک کی معیشت بحران سے دوچار ہے۔

سارک ممالک آخرکار توانائی میں تعاون پر آمادہ ہو گئے اور ایک مشترکہ پاورگرڈ کے معاہدے پر دستخط ہوئے لیکن پاک بھارت قیادت سارک ایجنڈے کے دو اہم اجزا پر متفق نہیں ہو سکی جن میں سڑک اور ریل کے رابطوں کے ذریعے جنوبی ایشیا تجارت بہتر ہو سکتی تھی۔

بچے ٹاور سے رسیاں لٹکا کر جھولا جھولتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کا اصل مقصد بجلی فراہم کرنا ہے
،تصویر کا کیپشنبچے ٹاور سے رسیاں لٹکا کر جھولا جھولتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کا اصل مقصد بجلی فراہم کرنا ہے

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کئی سالوں سے دونوں پنجاب کے درمیان توانائی میں دو طرفہ تعاون کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ورکنگ باؤنڈری پر تناؤ اور سیاسی یا دفاعی یا اندرونی دباؤ کی وجہ سے دونوں کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔

اسی طرح ان دونوں ممالک کے بدلتے تعلقات سارک کو ان مسائل کے حل کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم بنانے کے آڑے آ جاتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ توانائی معاہدے پر دستخط کسی بھی حتمی نتیجے کے ضامن نہیں۔

پاکستانی صحافی عامر متین کا کہنا ہے: ’کاغذوں میں یہ بڑا اچھا لگتا ہے کہ گرڈ کو جوڑنے کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں لیکن تاثر یہی ہے کہ سارک کی اس کانفرنس سے کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا اور یہ ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ بھارت اور پاکستان تو آپس میں بات چیت تک نہیں کر سکے۔‘

سارک ممالک میں ایک ہیں جیسے مسائل ہونے کے باوجود سارک کی افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساؤتھ ایشیئن فری ٹریڈ معاہدے پر رضامندی کے آٹھ سال بعد بھی جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت ان کی کل تجارت کے مقابلے میں صرف پانچ فیصد ہے۔

کٹھمنڈو میں گھوم پھر کر ہمیں اندازہ ہوا کہ پاکستان ہو، بھارت ہو یا پھر نیپال، یہاں کے لوگوں کی ضروریات اور مجبوریاں ایک جیسی ہی ہیں۔

جنوبی ایشیا کے خطے کے ملکوں کے سربراہوں نے جمعرات کو توانائی کی شراکت کے بارے میں معاہدہ پر دستخط کیے
،تصویر کا کیپشنجنوبی ایشیا کے خطے کے ملکوں کے سربراہوں نے جمعرات کو توانائی کی شراکت کے بارے میں معاہدہ پر دستخط کیے

اگر حقیقی طور پر خطے میں تعاون کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے تو لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ لیکن خطے میں اجتماعی فائدہ تبھی ہو گا جب دو طرفہ اختلافات کو عام عوام کے فائدے کے لیے ایک طرف کر دیا جائے۔

یہاں موجود سفارت کاروں کے مطابق توانائی کے معاہدے پر دستخط تو ہو گئے لیکن یہ محض ایک پالیسی فریم ورک ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانا پاک بھارت دو طرفہ تعلقات کی سمت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

لیکن توانائی کا بحران اس خطے کے لیے اجتماعی مسئلہ ہے۔ کیا سارک ممالک کے عام باشندوں کی بنیادی ضروریات سیاسی تحفظات پر حاوی ہو پائیں گی؟