’افریقہ میں ملیریا کے 70 کروڑ کیسز کو روکا گیا‘

ایک نئی تحقیق کے مطابق افریقہ میں سنہ 2000 کے بعد سے ملیریا سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 70 کروڑ کیسز کو روکا گیا۔
نیچر نامی جنرل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افریقہ میں ملیریا کے شکار مریضوں کی تعداد میں 50 فیصد تک کمی ہوئی۔
بتایا گیا ہے کہ مچھر دانیوں کا استعمال بہت زیادہ معاون ثابت ہوا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ سائینس دانوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ 15 سالوں میں ذیلی سہارا کے علاقوں میں 60 کروڑ 63 لاکھ کیسز سے بچا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملیریا سے بچاؤ میں مچھر دانیوں کے استعمال سے 22 فیصد، آرٹیمسینن نامی دوا سے 68 فیصد اور کیڑے مار سپرے سے 10 فیصد تک فائدہ ہوا۔
خیال رہے کہ افریقہ میں بہتری کے تناسب میں کچھ کمی بھی آئی ہے۔ سنہ 2011 تک نو فیصد کیس کم ہوئے تھے تاہم اس کے بعد پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
محقق ڈاکٹر سمیر بھٹ کا کہنا ہے کہ افریقہ میں مچھروں کی جانب سے کیڑے مار دوا کے اثرات زائل کرنا بھی ایک رکاوٹ ہے۔ اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا میں آرٹیمسینن کے خلاف مزاحمت کا پتہ چلا ہے جس کی وجہ سے وہاں اس مرض کو کنٹرول کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ اس وقت نامیبیا سمیت افریقہ کے آٹھ ممالک ملیریا کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک کے وزیرِ صحت ڈاکٹر رچرڈ کموی جن کے بھائی کا انتقال بھی ملیریا کی وجہ سے ہوا تھا کا کہنا ہے کہ ملیریا کے ملک بھر میں سامنے آنے والے کیسز میں غیر معمولی طور پر کمی ہوئی ہے۔
تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ اس مرض کے بچاؤ کے لیے ملنے والی فنڈنگ کو کم کرنا بہت بدقسمتی کا باعث ہوگا۔







