ڈپریشن سے بچنے کے لیے زیادہ مچھلی کھائیں

،تصویر کا ذریعہScience Photo Service
ایک نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے والے افراد ڈپریشن کے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد اپنی غذا میں مچھلی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات دوسرے افراد کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہوتے ہیں۔
تحقیق کاروں کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ مچھلی میں موجود چربی کی ایک خاص قسم (فیٹی ایسڈ) کا ہونا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
ذہنی صحت کے حوالے سے کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے ، مائنڈ کے مطابق یہ تحقیق انسان کی غذا اور اس کے مزاج پر کی جانے والی دیگر تحقیقات میں مدد دے گی۔
وبائی امراض اور سماجی صحت کے جرنل میں چینی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مچھلی کے استعمال اور ڈپریشن پر اس سے پہلے بھی بہت سی تحقیق کی جا چکی ہے، لیکن ان کے نتائج واضح نہیں تھے۔
جب انھوں نے مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ مچھلی کھانے کے مثبت اثرات پر یورپ میں تو بہت تحقیق کی گئی ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں ابھی اس پر کام ہونا باقی ہے۔
اس پہلے سے کی گئی تحقیق سے کوئی ایک نتیجہ اخذ کرنا متنازع ہوسکتا تھا، اس لیے انھوں نے سنہ 2001 میں کی گئی ان تمام متعلقہ تحقیقات کے اعدادوشمار کو جمع کر کے کچھ نئے نتائج اخذ کیے ہیں۔
ان اعدادوشمار کے حساب سے معلوم ہوا کہ مچھلی کے استعمال اور ذہنی صحت کا ایک اہم تعلق ہے اور اس کے اثرات مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ان اثرات کی وجہ سے حتمی نہیں لیکن اس سے بہت سی دلچسپ باتیں سامنے آئی ہیں کہ آخر کیوں مچھلی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے؟

ایک ممکنہ توجیح یہ ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری دماغ میں موجود دو ڈوپامائن اور سیروٹونن جیسے کیمیائی مادوں کی فعالیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کیمیائی مادے ڈپریشن کے مرض سے ایک تعلق رکھتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مچھلی کا زیادہ استعمال کر نے والے لوگوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ عمومی طور پر ایک صحت مند غذا کھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔
میڈیکل کالج آف کنگ ڈاؤ ونیورسٹی کے پروفیسر ڈونگ فینگ ژانگ کا کہنا ہے کہ ’مچھلی کا زیادہ استعمال ممکنہ طور پر ڈپریشن کو ابتدائی مرحلے پر ہی روکنے کا کام کرتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مستقبل میں کی جانے والی تحقیق میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا اس تعلق میں مچھلیوں کی مختلف اقسام کے ساتھ فرق پایا جاتا ہے۔‘
مائنڈ کی انفارمیشن مینیجر راشیل بائڈ نے بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے ایک کتابچہ ’غذا اور مزاج‘ کے نام سے شائع کیا ہے جس میں لوگوں کو مچھلی میں پائے جانے والی ’صحت بخش چربی‘ کھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ ان نتائج کو حتمی نہ مان لیا جائے، کیونکہ ڈپریشن کی وجوہات میں اور بھی بہت سے عوامل شامل ہوتے ہیں۔'
’لیکن ہم واقعی یقین رکھتے ہیں کہ ان چربی والے کیمیائی مادوں کا آپ کی غذا میں شامل ہونا آپ کی دماغی صحت کے لیے بہت مددگار ہو سکتا ہے اور لوگ اپنی غذا میں تھوڑا سا ردوبدل کر کے بڑے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ لوگ جو سبزی خور ہیں یا مچھلی کھانا پسند نہیں کرتے، وہ یہ مادے مختلف بیجوں اور میووں سے حاصل کر سکتے ہیں۔







