عجیب سمندری مخلوق کا مکمل ڈھانچہ ڈھونڈنے میں کامیابی

،تصویر کا ذریعہbbc
سائنسدان 100 برس میں پہلی بار ہیلوسیجینیا نامی عجیب سمندری جاندار کا مکمل ڈھانچہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
یہ ننھی سمندری مخلوق 50 کروڑ سال قبل پائی جاتی تھی لیکن اب تک ملنے والے اس کے تمام ڈھانچوں میں سر کا حصہ شامل نہیں تھا۔
اب کینیڈا میں ملنے والے فوسلز میں پہلی بار اس کے سر کی ہڈیاں بھی ملی ہیں جس سے پہلی بار اس مخلوق کا چہرہ سامنے آیا ہے۔
یہ تحقیق نیچر نامی رسالے میں شائع ہوئی ہے۔
یہ نیا رکاز یا فوسل کینیڈا میں برج شیل کے علاقے سے دریافت ہوا اور سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ اس جاندار کا سر چمچہ نما تھا۔
اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف کیمبرج کے ڈاکٹر مارٹن سمتھ کا کہنا ہے کہ ’یہ تو کسی دوسری دنیا سے آنے والی مخلوق کی مانند ہے۔‘
ہیلوسیجینیا کا پہلا ڈھانچہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل دریافت ہوا تھا اور جب سے یہ سائنسدانوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔

،تصویر کا ذریعہM. R. Smith Smithsonian Institute
یہ سمندری جاندار صرف دو سینٹی میٹر لمبا اور انسانی بال سے بھی پتلا اور انتہائی عجیب تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ٹیوب جیسے مختصر جسم کے ایک جانب تو بڑی بڑے نوکیلے مہروں کے جوڑے تھے جبکہ دوسری جانب پنجے نما شے لٹکی ہوئی تھی۔
ڈاکٹر سمتھ کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب پہلی بار اس مخلوق کے بارے میں باقاعدہ طور پر معلومات سامنے لائی گئیں تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا الٹا سیدھا کس طرف سے ہے۔
ان کے مطابق حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے پیر کس جانب اور کمر کس جانب تھی۔
انھوں نے کہا کہ اب بھی اس بارے میں سائنسدان مخمصے کا شکار ہیں کہ ہیلوسیجینیا کا سر کس طرف اور دم کس طرف تھی۔







