بحرالکاہل میں قدیم مچھلی کی دریافت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بحرالکاہل کے ایک غار میں پائی جانے والی نئی طرح کی ایک بام مچھلی کو اپنے قدیم نقوش کی بنا پر زندہ فوسل کہا گیا ہے۔
یہ مچھلی اس قدر منفرد ہے کہ سائنسدانوں کو اس کا باقی بام مچھلیوں سے رشتہ بیان کرنے کے لیے صنفیات میں ایک نیا خاندان بنانا پڑا ہے۔
امریکہ، جاپان اور جمہوری پلاؤ کی ایک مشترکہ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس بام مچھلی کے نقوش سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ارتقاء کی روح میں اس کا ماضی باقی صنف سے علیحدہ رہا ہے اور یہ دو کروڑ سال پہلے وجود میں آئی۔
اس بام مچھلی کے بارے میں تفصیلات ’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی‘ نامی جرنل میں شائع کی گئی ہیں۔
جس جانور پر نئی تحقیق کی گئی یہ ایک اٹھارہ سینٹی میٹر لمبی مادہ مچھلی ہے جس کو محققین نے جمہوری پلاؤ میں پانی کی سطح سے پینتیس میٹر نیچے سے پکڑا۔
تحقیق کی ابتداء میں محققین اس مچھلی کو بام مچھلی قرار دینے پر متفق نہ ہو سکے لیکن جنیاتی تجزیے کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ یہ جانور ایک قدیم بام مچھلی ہی ہے۔
سائنسدانوں نے لکھا ہے ’کئی صورتوں میں اس مچھلی کے نقوش حالیہ بام مچھلیوں سے مختلف ہیں اور کئی صورتوں میں اس کے نقوش قدیم تر بام مچھلی سے بھی الگ ہیں اور اسی بناء پر اس مچھلی کو ایک زندہ فوسل کہا گیا ہے۔‘
محققین کے مطابق یہ مچھلی اس وقت وجود میں آئی جب دنیا پر ڈائناسور اپنا راج شروع کرنے کو تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ کسی زمانے میں یہ مچھلی کئی اور جگہوں پر بھی پائی جاتی ہو گی کیونکہ جس غار میں یہ فی الوقت پائی گئی ہے یہ صرف ستر لاکھ سال قبل وجود میں آیا۔







