آرڈی ڈھانچہ سال کی سب سے اہم دریافت

فائل فوٹو، ڈھانچہ
،تصویر کا کیپشنآرڑی کے ڈھانچے کے مشاہدے میں پندرہ سال کا عرصہ لگا

انسانی ارتقا کے مطالعے میں مرکزی کردار اختیار کر جانے والے ارضیاتی دور کے انسان نما ڈھانچے کی بازیابی کو سال دو ہزار نو میں سائنس کی سب سے اہم پیش رفت قرار دیاگیا ہے۔

انسان سے تعلق کا امکان رکھنے والی چوالیس لاکھ سال پرانی مخلوق کے ڈھانچے کی دریافت کے بارے میں تفصیلات پہلی بار اکتوبر میں ’سائنس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی تھی۔

اب سائنس کے ایڈیٹر نے اسے سال کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ یہ اس سال کی دس اہم دریافتوں (سائنس اور جینایاتی) میں سے ایک ہے۔

پہلی بار سنہ انیس سو چورانوے میں اس مخلوق کے فوسل دریافت ہوئے تھے۔ جسے دیکھتے ہی سائنسدانوں کو فوری طور پر اس کی اہمیت کا احساس ہو گیا لیکن اس قدیم ڈھانچے کی حالت بوسیدہ ہونے کی وجہ سے سائنسدانوں کی ٹیم کو اس کا مشاہدہ کرنے میں پندرہ سال کا عرصہ لگا۔

اس کھدائی کے دوران سب سے اہم دریافت ایک نسوانی ڈھانچہ تھا جسے اب آرڈی کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے رواں سال میں اکتوبر سے اس دریافت کے بارے میں تفصیلات سائنس جرنل میں شائع کرنا شروع کیں۔

آرڈی کی دریافت کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی عام فوسل نہیں ہے، یہ نہ انسان ہے اور نہ ہی بندر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کیسے تھے۔‘

.انھوں نے اس دریافت کے سائنس جریدے میں شائع ہوتے وقت بتایا کہ ’ہماری ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آرڈی سیدھی چل سکتی تھی، اس کے بری طرح کچلے گئے کولہوں کی دوبارہ تشکیل سے ایک ایسا وجود بن گیا جو خود کو ایک ٹانگ پر بھی متوازن کر سکتا تھا۔

پروفیسر کے مطابق ٹیم میں شامل بعض سائنسدانوں نے اس نتیجے پر شک کیا ہے۔ آرڈی کی دریافت کو انیس سو چوہتر میں دریافت ہونے والے چونتیس لاکھ سال قدیم فوسل لوسی سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

نیچرل ہسٹری میوزیم لندن کے پروفیسر کرس سٹنگر کے مطابق لوسی کے برعکس آرڈی انسانی ارتقا میں زمانہ قدیم میں بہت پہلے کے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔

اس سال کی دوسری اہم دریافتوں میں امریکی خلائی ادارے ناسا کی سپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے تیزی سے جگہ تبدیل کرتے ہوئے نیوٹرون ستاروں کی تصاویر ہیں جنھیں پولسر کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ہبل دوربین کی مرمت اور چاند پر پانی کی دریافت بھی شامل ہے۔