کچھ لوگوں کے لیے پیاز ایک ڈراؤنا خواب

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
ایک حالیہ کہانی میں ہم نے دنیا میں سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی سبزی پیاز کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
اگرچہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اکثر لوگ اس کے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن کچھ لوگوں کے لیے پیاز ایک ڈراؤنا خواب ہے۔
بیلفاسٹ سے تعلق رکھنے والے ’گیری ڈونگن‘ ان بہت سے لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے ای میل کر کے اس بات کی وضاخت کی کہ ایسا کیوں ہے:
پیاز مجھے رلاتا ہے، مگر معمول کے انداز میں نہیں۔ میں اس سے اور اس جیسی دوسری سبزیوں جیسے لہسن اور ہری پیاز سے الرجک ہوں۔ ان کو کھانے سے مجھے قے آتی ہے اور میری جلد پہ دھبے اور زخم بن جاتے ہیں۔
پیاز سے میری الرجی کی تشخیص تقریباً 20 سال پہلے ڈبلن کے ایک ہسپتال میں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ پیاز مجھے پسند نہیں ہے اور میں قدرتی طور پر اسے کم کھاتا ہوں۔

،تصویر کا ذریعہ
زیادہ مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب لوگ مجھے کھانے پر مدعو کرتے ہیں۔ جو میرے قریبی دوست ہیں ان کو تو میری الرجی کےبارے میں علم ہے۔ لیکن جن لوگوں کو اس بارے میں علم نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ میں کھانوں میں مین میخ نکالتا ہوں۔ اس لیے میں اکثر دعوتوں پر نہیں جاتا۔
سوپر مارکیٹ میں خریداری کے وقت میں تمام لیبل چیک کرتا ہوں۔ زیادہ تر تیار کھانوں میں پیاز یا لہسن ملا ہوتا ہے، اس لیے میں ان کا انتخاب نہیں کرتا۔
ریستوران میں بھی مجھے اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ میں حیران ہوں کہ مہنگے ریستورانوں میں بھی پیاز سے الرجک لوگوں کے لیے کھانے کو کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ کھانے پہلے سے تیار ہو تے ہیں لہٰذا ان سے پیاز یا لہسن نہیں نکالا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہر وقت یہ جاننے کی کوشش کہ میرے کھانے میں کیا اجزا شامل ہیں کی وجہ سے کبھی مجھے یہ لگتا ہے کہ میں ’شرلک ہومز‘ کی طرح جاسوس ہوں۔
مگر یہ جاسوسی نہ کرنے کے سنگین نتائج بھی نکل سکتے ہیںگ ایک دفعہ بر گر کھانے کے بعد میری ٹانگوں پر زخم بن گئے تھے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ برگر کے اندر پیاز اور لہسن کا پاؤڈر تھا۔







