بھارت سے ٹماٹر، افغانستان سے پیاز

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبۂ سندھ میں حالیہ سیلاب کے باعث سبزی کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسی وجہ سے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سبزیاں درآمد کی جا رہی ہیں۔
اس وقت بھارت سے ٹماٹر اور افغانستان سے پیاز درآمد کی جا رہی ہے جس سے سبزیوں کی قمیت پر بھی فرق پڑا ہے۔
نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سبزی کا کاروبار کرنے والے آڑتھیوں کا کہنا ہے کہ نومبر سے مارچ تک پنجاب اور دیگر شہروں کے لیے سبزیاں صوبۂ سندھ سے آتی ہیں اور سیلاب کی وجہ سے سبزیوں کی فصل اسی فیصد تباہ ہوگئی ہے۔
لاہور میں سبزی کے ایک درآمد کنندہ خلیل بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت پندرہ سو سے دو ہزار ٹن تک ٹماٹر روزانہ بھارت سے درآمد کیا جارہا ہے اور بقول ان کے آنے والے دنوں میں اس کی درآمد میں اضافہ ہوگا۔
سبزی کے آڑتھیوں کا کہنا ہے کہ بھارت سے درآمد کیا جانے والا ٹماٹر معیار میں پاکستانی ٹماٹر جیسا ہے تاہم اس کی قمیت زیادہ ہے۔
آڑتھیوں کے بقول سیلاب نے پیاز کی فصل کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور پاکستان میں اس وقت پیاز کی طلب پندرہ سو سے دو ہزار ٹن کے قریب ہے اور طلب کو پورا کرنے کے لیے افغانستان سے روزانہ پانچ سو ٹن کے لگ بھگ پیاز درآمد کیا جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں پیاز کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا اور اس طرح نومبر میں پیاز کی قیمت بھی بڑھ جائے گی۔
سبزیوں کے درآمد کنندگان نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پیاز کی طلب کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے پیاز درآمد کی جا سکتی ہے جو افغانستان کے مقابلے میں نسبتاً مہنگی ہوگی۔
سندھ میں آنے والے سیلاب کے باعث پیاز کے بعد سرخ اور سبز مرچوں کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور سبزیوں کے درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ مرچوں کی اسی فیصد فصل متاثر ہوئی ہے اور اسی وجہ سے چین، بھارت اور برما سے ایک سو ٹن کے قریب روزانہ سرخ مرچیں درآمد کی جا رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درآمد کنندہ خلیل بھٹی نے بتایا کہ بیس اکتوبر کے بعد دیگر سبزیاں بھی درآمد کرنے کی ضرورت پڑے گی اور کم از کم دو سو ٹن سبزیاں روزانہ درآمد کرنا پڑیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سبزیاں بھارت، ایران اور افغانستان سے درآمد کی جاسکتیں ہیں تا کہ سبزیوں کو پاکستان لانے کے اخراجات کم سے کم ہوں۔
سبزی درآمد کرنے والوں کا یہ مطالبہ ہے کہ سبزیوں پر عائد اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے درآمد ہونے والی سبزیوں کی قمیتوں اضافہ ہوگا اس لیے حکومت کو یہ ٹیکس ختم کر دینا چاہئے۔







