پیاز کی قیمت اوپر تو حکومت نیچے

پیاز

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن’پیاز کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں تو حکومت نیچے آ جاتی ہے‘

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے لاسل گاؤں میں پیاز کے تاجر منوج کمار جین نے اپنے موبائل فون پر پیاز کا آرڈر لیتے ہوئے پوچھا ’کیا آپ کو روس کے لیے ہلکے رنگ اور بڑے سائز کی پیاز چاہیے؟

’ٹھیک ہے، میں ابھی کے ابھی آپ کو نمونہ بھیجتا ہوں،‘ یہ کہہ کر انھوں نے پیاز کی تصویر کھینچ کر ایکسپورٹر کو بھیج دی۔

منوج کمار جین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی نے تاجروں کے کام کو بہت آسان بنا دیا ہے: ’اب ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔‘

لاسل گاؤں ایشیا میں پیاز کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ مہاراشٹر ہی میں بھارت میں سالانہ پیدا ہونے والی ایک کروڑ 60 لاکھ ٹن پیاز کا تیسرا حصہ پیدا ہوتا ہے۔

مسٹر جین ان 200 لائسنس شدہ تاجروں میں سے ایک ہیں جو 1700 کسانوں سے پیاز خریدتے ہیں۔

دوردراز کے کسان ہر روز اپنی پیاز بیچنے کے لیے منڈی میں لاتے ہیں۔

بھارت میں پیاز بہت اہم اور لازمی سبزیوں میں شمار ہوتی ہے۔ خواہ کوئی دولت مند ہو یا غریب، کسی کا کھانا پیاز کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔

مسٹر جین

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپیاز کی قیمتیں کب اوپر نیچے ہو جائیں کچھ نہیں کہا جا سکتا

پیاز بھارت میں ہر شکل میں استعمال ہوتی ہے، کھانوں کے علاوہ اسے سلاد میں کچا بھی کھایا جاتا ہے اور اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔

جس طرح سے بھارت کا پیاز کے بغیر گزارہ نہیں ہے، اسی طرح اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی بہت اہم ہے۔

پیاز کی قلت سے اس کی قیمتیں آسمان کو چھو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آتے ہیں، یہاں تک کہ حکومت تک گر سکتی ہے۔

2010 میں کانگریس کی قیادت والی حکومت کو پیاز کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کرنی پڑی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ حکومت کو مظاہروں کو روکنے کے لیے پیاز درآمد کرنی پڑی۔

روزنامہ نیویارک ٹائمز نے ایک بار لکھا تھا: ’بھارت میں اگر پیاز کی قیمت اوپر جاتی ہے تو حکومت نیچے آ سکتی ہے۔‘

مسٹر جین کا کہنا ہے کہ پیاز کی قیمتیں کب اوپر نیچے ہو جائیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس کو زیادہ دیر تک ذخیرہ بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ جلدی خراب ہو جاتی ہے۔

منموہن سنگھ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپیاز کی قیمت میں اضافہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی

پیاز کی تجارت بھارت کی کھربوں کی معیشت کی کئی کمزوریاں بھی اجاگر کرتی ہے، جو اس وقت کم پیداوار اور مہنگائی سے دوچار ہے۔

اس کی تجارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح بھارت کی پھل اور سبزیوں سے متعلق معیشت موسم پر انحصار کرتی ہے۔

بے موسم برسات سے فصلیں تباہ ہو سکتی ہیں جس سے سپلائی کم اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ قحط سے خوراک کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

جین نے آٹھ روپے سے ساڑھے نو روپے فی کلوگرام کے حساب سے پیاز خریدی اور ممبئی سے تقریباً 144 میل کے فاصلے پر دکانوں میں یہی پیاز تین سے چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی تھی۔

یہ فصل بازاروں تک پہنچانا ایک اور دشوار مرحلہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کا ہونا یا اس کی کمی ملک کی اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

پیاز

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپیاز کو بازاروں تک پہنچانا دشوار ترین مسئلہ ہے

جین کو اپنی یہ فصل کولکتہ کے ایک تاجر تک پہنچانے کے لیے ٹرکوں کا انتظام کرنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔

جین کا کہنا تھا کہ ٹرکوں کے ذریعے فصل مختلف علاقوں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے جو خاصا مہنگا اور مشکل راستہ ہے۔ جہاں تک ریل کا تعلق ہے ان علاقوں میں ٹرین سٹیشن تو ہیں لیکن اس کام کے لیے زیادہ ٹرینیں اور ٹرک نہیں ہیں۔

کسانوں سے خریدنے اور اسے آگے فروخت کرنے تک تاجروں کی تین سے پانچ فیصد فصل خراب ہو جاتی ہے کیونکہ انہیں ذخیرہ کرنے اور کوالٹی اور سائز کے حساب سے چھانٹا بھی جاتا ہے۔

ماہرِ معیشت مسٹر گولاٹی کا کہنا ہے کہ تاجر زیادہ مال خرید کر کم فروخت کرتے ہیں کیونکہ اس دوران پھل اور سبزیاں خراب ہونے لگتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پورے بھارت میں کولڈ سٹوریج نہیں بنائے جاتے، معیشت کو یہ نقصان ہوتا رہے گا۔

مسٹر گولاٹی کا کہنا ہے کہ اس نقصان کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پیاز یا سبزیوں کو سکھا کر انھیں پروسس کیا جائے۔ اس وقت بھارت میں صرف پانچ فیصد پھل اور سبزیاں ہی پروسس کی جاتی ہیں۔

ان کا خیال میں بھارت میں پھل اور سبزیوں کو پروسس کرنے کے کاروبار کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر بچوں کے کھانوں کو، تاکہ پھل اور سبزیوں کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔