سورج کی حیرت انگیز تصویر

نسٹر نامی ایک دوربین نے سورج کی ایک حیرت انگیز تصویر کھینچی ہے

،تصویر کا ذریعہv

،تصویر کا کیپشننسٹر نامی ایک دوربین نے سورج کی ایک حیرت انگیز تصویر کھینچی ہے

دور دراز کہکشاؤں اور ’بلیک ہولز‘ کا مطالعہ کرنے کے لیے بنائی گئی نسٹر نامی ایک دوربین نے جو تصاویر بھی کھینچ سکتی ہے، سورج کی ایک حیرت انگیز تصویر کھینچی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس دور بین کو سنہ 2012 میں مدار میں چھوڑا تھا اور یہ کائنات کا مشاہدہ ایکسرے شعاؤں سے کرتی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے سورج کی تصویر لی ہو اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورج کے بارے میں اعداد و شمار جمع کر سکتی ہے۔

اس کی یہ صلاحیت سورج کے موسم کے بارے میں کچھ دیرینہ پہیلیاں جیسا کہ اس کا بیرونی ماحول اس کی سطح سے کئی گنا زیادہ گرم کیوں ہے، سلجھانے میں مدد کر سکتی ہے۔

ماہرین طبیعیات نے نسٹر کو سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں اس وقت سوچا تھا جب یہ زیر تعمیر تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سورج کے علاوہ دور دراز موجود کائنات کے دیگر حصوں کا مطالعہ کرنے میں بھی مدد ملے گی

،تصویر کا ذریعہNASAJPLCATTECHdss

،تصویر کا کیپشنماہرین کا خیال ہے کہ یہ سورج کے علاوہ دور دراز موجود کائنات کے دیگر حصوں کا مطالعہ کرنے میں بھی مدد ملے گی

اس دوربین کے مشن پر کام کرنے والی کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پروفیسر فیونا ہیریسن کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اس بات سے متفق نہیں تھیں کہ اتنی حساس اور اعلٰی توانائی والی ایکسرے دوربین کو جسے کائنات کی گہرائیوں کے مشاہدے کے لیے بنایا گیا ہے سورج کے مطالے کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر پھر انہیں شمسی طبیعیات کے ماہر یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر ڈیوڈ سمتھ نے ایسا کر نے پر راضی کیا۔

پروفیسر سمتھ کا کہنا ہے کہ نسٹر ہمیں سورج کے ماحول کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

نسٹر کا مشن سنہ 2016 تک جاری رہے گا اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سورج کے علاوہ دور دراز موجود کائنات کے دیگر حصوں کا مطالعہ کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔