اربوں سال پہلے کی کہکشاؤں کے جھرمٹ کی تصاویر

خلائی دوربین ہبل نے اب تک دریافت ہونے والے بعید ترین واقع کہکشاؤں کے جھرمٹ کی تصاویر کھینچی ہیں۔ ’پینڈورا کلسٹر‘ نامی یہ جھرمٹ زمین سے 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ روشنی نے وہاں سے زمین تک پہنچنے میں 12 ارب سال لگائے ہیں۔ چونکہ یہ روشنی 12 ارب سال پہلے وہاں سے نکلی تھی اس لیے یہ تصویر دراصل 12 ارب سال پہلے کا منظر پیش کرتی ہے، جب کائنات کو وجود میں آئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔
یہ تصویر امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی فلکیاتی سوسائٹی کے 223ویں اجلاس کے موقعے پر دکھائی گئی۔
تصویر کے پیش منظر میں رنگین کنڈل دار اور بیضوی کہکشائیں ہیں جنھیں ایبل 2744 کہا جاتا ہے۔
اس جھرمٹ کو پینڈورا اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس جھرمٹ کی تخلیق بہت عجیب اور شدید رہی ہے، اور اس سے ماہرینِ فلکیات کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔
ایبل کے عظیم کششِ ثقل ایک محدب عدسے کی مانند کام کرتے ہوئے اس کے پس منظر میں واقع اشیا کو بڑا کر کے دکھاتی ہے۔
ہبل کی تصویر میں تین ہزار کے قریب کہکشائیں دکھائی دے رہی ہیں، جو پیش منظر میں واقع دوسری سینکڑوں کہکشاؤں کے ساتھی گتھی ہوئی ہیں۔
یہ کہکشائیں عدسے کے عمل کی وجہ سے زیادہ روشن دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سرکس کے آئینے میں دکھائی دینے والی اشیا کی مانند یہ تصویر خاصی مسخ بھی ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بے مثال تصویر کو ناسا کی سپٹزر دوربین اور چندرا ایکس رے دوربین سے لی گئی تصاویر کے ساتھ ملایا جائے گا جس سے کہکشاؤں اور ان کے ساتھی بلیک ہولز کی تخلیق و تشکیل کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
اگرچہ ہبل نے پہلے بھی اس فاصلے پر موجود کہکشاؤں کی تصاویر کھینچی ہیں، لیکن یہ تصویر اس قدر روشن ہے کہ اس سے ماہرینِ فلکیات حیران رہ گئے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے گیرتھ النگورتھ کہتے ہیں:
’یہ کہکشائیں بے حد نمایاں نظر آتی ہیں کیوں کہ یہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ روشن ہیں۔ کائنات کی زندگی میں اس قدر ابتدائی دور میں
ان کا تشکیل پا جانا بہت غیر متوقع تھا۔‘
اگرچہ ان کہکشاؤں کا حجم ہماری کہکشاں کا صرف ایک فیصد ہے، لیکن ڈاکٹر النگورتھ کہتے ہیں: ’یہ ہماری توقعات سے کہیں بڑی ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔‘







