گلہریوں کے موسمیاتی تبدیلیوں پر اثرات

قطبِ شمالی کے منجمد علاقے میں 15 ہزار ارب ٹن کاربن کا ذخیرہ موجود ہے

،تصویر کا ذریعہjohn wood

،تصویر کا کیپشنقطبِ شمالی کے منجمد علاقے میں 15 ہزار ارب ٹن کاربن کا ذخیرہ موجود ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قطبِ شمالی کی گلہریاں موسمیاتی تبدیلوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ اس زمینی جانور کی وجہ سے مستقل طور پر منجمد رہنے والی زمین سے گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں تیزی آتی ہے۔

واضح رہے کہ قطبِ شمالی کے منجمد علاقے میں کاربن کا بڑا منجمد ذخیرہ ہے۔

ان گلہریوں پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی جنگلی حیاتیات کے کردار کو پوری طرح نہیں جانچا جا سکا۔

امریکہ میں میساچوسٹس کے وڈز ہول ریسرچ سنٹر کی ڈاکٹر سو نیٹلی نے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ جنگلی حیاتیات روئیدگی کے عمل کو متاثر کرتی ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ سبزہ زمینی کاربن کے پگھلنے پر اثرانداز ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’پہلے ہمارا جو تصور تھا یہ ان سے کہیں زیادہ اثر ڈالتے ہیں اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ہم مستقبل میں خیال رکھیں گے۔‘

ٹیم نے یہ بھی پایا کہ یہ گلہریاں اپنے پیشاب پاخانے سے جو نائٹروجن زمین میں ملا رہی ہیں اس کے بھی اثرات ہیں

،تصویر کا ذریعہjohn wood

،تصویر کا کیپشنٹیم نے یہ بھی پایا کہ یہ گلہریاں اپنے پیشاب پاخانے سے جو نائٹروجن زمین میں ملا رہی ہیں اس کے بھی اثرات ہیں

قطبِ شمالی کے منجمد علاقے میں برف کے نیچے سالوں بھر زمین منجمد رہتی ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں کاربن وافر مقدار میں موجود ہے۔

ڈاکٹر نیٹلی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’منجمد برف میں کاربن دسیوں ہزار سال سے جمع ہو رہی ہے۔ یہاں درجۂ حرارت بہت کم ہوتا ہے، زمین تر رہتی ہے اس لیے جب پودے یا جانور مرتے ہیں تو وہ سڑنے یا تحلیل ہونے کے بجائے رفتہ رفتہ کاربن بن جاتے ہیں۔‘

ابھی وہاں 15 ہزار ارب ٹن کاربن کا ذخیرہ موجود ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقدار فضا میں موجود کاربن سے دو گنا زیادہ ہے۔

یہاں خطرہ یہ ہے کہ جب یہ پودے گرم ہوں گے، منجمد برف پگھلے گی تو فضا میں مزید گرین ہاؤس گیس کا اخراج ہوگا جس سے درجۂ حرارت میں مزید اضافہ ہوگا۔

تاہم ڈاکٹر نیٹلی کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بارے میں جانوروں کے کردار پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے۔

ان گلہریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے اثرات موسمیاتی تبدیلوں پر پڑتے ہیں

،تصویر کا ذریعہschade

،تصویر کا کیپشنان گلہریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے اثرات موسمیاتی تبدیلوں پر پڑتے ہیں

اس کی جانچ کے لیے ڈاکٹر نیٹلی اور وسکانسن یونیورسٹی کے نائجل گولڈن نے گلہریوں پر تحقیق کرنا شروع کی جو اس علاقے میں ہر جگہ پائی جاتی ہیں۔

مسٹر گولڈن نے کہا: ’یہ (گلہریاں) زمین کی انجینیئر ہیں۔ جب یہ اپنے بل کے لیے کھدائی کرتی ہیں تو یہ زمین کو توڑ دیتی ہیں اور اوپر کی سطح اور نیچے کی سطح کو ملا دیتی ہیں جس سے وہ زمین میں آکسیجن لاتی ہیں اور زمین کو اپنے پیشاب اور فضلے سے زرخیز بناتی ہیں۔‘

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح انھوں نے یہ معلوم کیا کہ ان کے بل آس پاس کی زمین سے زیادہ گرم ہوتے ہیں۔

مسٹر گولڈن نے کہا: ’ہم نے ان علاقوں کے درجۂ حرارت میں اضافہ دیکھا جہاں یہ گلہریاں زیادہ تعداد میں ہیں۔‘

ٹیم نے یہ بھی پایا کہ یہ گلہریاں اپنے پیشاب اور پاخانے سے جو نائٹروجن زمین میں ملا رہی ہیں اس کے بھی اثرات ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین میں گرمی آنے سے وہاں کے جانداروں کو نمو ملے گی اور اس سے ہریالی آئے گی جس سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ جائے گا۔