آرکٹک: صدیوں میں گرم ترین

نئی تحقیق کے مطابق قطب شمالی کے علاقے آرکٹک میں دو ہزار سال میں سب سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا گیا ہے۔ درجہ حرارت کا پتہ چلانے کے لیے ماہرین نے برف، درختوں اور جھیلوں کی تہہ میں مواد کا تجزیہ کیا۔
ماہرین نے جریدے سائنس میں لکھا ہے کہ نئی تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ آرکٹک کا علاقہ بہت حساس ہے جہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور شمسی حرارت میں معمولی سی تبدیلی کا اثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کے لیے تئیس مقامات سے نمونے حاصل کیے گئے جن سے عشرہ بہ عشرہ اعداد و شمار جمع ہوئے۔ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سن انیس اٹھانوے سے لے کر دو ہزار آٹھ گرم ترین دہائی تھی۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر ڈیرل کافمین نے کہا کہ گزشتہ دو ہزار سال میں پہلے انیس سو سال میں درجہ حرارت کم ہونے کا رجحان تھا لیکن بیسویں صدی میں رجحان تبدیل ہو گیا اور موسم کے ٹھنڈا ہونے کا عمل جو جاری رہنا چاہیے تھا رک گیا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ دس سال خاص طور پر سب سے ڈرامائی تھے۔
پروفیسر کافمین نے بتایا کہ سن انیس سو تک آرکٹک کا علاقہ اوسطاً اعشاریہ دو سنٹی گریڈ تک ٹھنڈا ہو رہا تھا لیکن اس کے بعد سے درجہ حرارت ایک اعشاریہ دو سنٹی گریڈ بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس ہفتے آرکٹک کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سائنسدانوں پر موسم کے بارے میں خوف پھیلانے کا الزام لگتا رہا ہے لیکن در حقیقت خوف تو وہ لوگ پھیلا رہے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں کچھ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔



