آسٹریلیا میں ’مردہ‘ دل کی کامیاب پیوند کاری

ٹرانسپلانٹ

،تصویر کا ذریعہVICTOR CHANG INSTITUTE

،تصویر کا کیپشناس کامیاب آپریشن سے دنیا بھر میں دلی کی پیوند کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا

آسٹریلیا میں سرجنوں نے کہا ہے کہ انھوں نے مردہ دل استعمال کرتے ہوئے پہلا ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔

عموماً دل ان ڈونروں سے لیا جاتا ہے جن کا دماغ تو مر جاتا ہے لیکن ان کے دل کی دھڑکن اس وقت تک جاری ہوتی ہے۔

سڈنی کے سینٹ ونسنٹ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بیس منٹ تک رکے ہوئے دلوں کو پہلے زندہ یا بحال کیا اور اس کے بعد انھیں ٹرانسپلانٹ کر دیا گیا۔

جس پہلے مریض کو یہ دل لگایا گیا وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے آپریشن کے بعد اپنے آپ کو دس سال جوان محسوس کیا اور اب وہ ’مختلف انسان‘ ہیں۔

دل ہی ایک ایسا عضو ہے جو جب دھڑکنا بند کر دے تو اسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عام طور پر ’برین ڈیڈ‘ یا وہ مریض جو دماغی طور پر مر چکے ہوتے ہیں ان سے دھڑکتا ہوا دل نکالنے کے بعد اسے چار گھنٹے تک برف میں رکھا جاتا ہے اور پھر دوسرے مریض میں ٹرانسپلانٹ یا پیوند کر دیا جاتا ہے۔

سڈنی میں استعمال کی گئی منفرد تکنیک سے ایک مشین میں جسے ’ہارٹ ان اے باکس‘ کہا جاتا ہے مردہ دلوں کو بحال کیا جاتا ہے۔

جگر کی مشین
،تصویر کا کیپشنیہ مشین ڈونر کے جگر کو تندرست حالت میں رکھتی ہے

دل کو گرم رکھا جاتا ہے، دھڑکن بحال کی جاتی ہے اور ایک قوت بخش مادہ دل کے پٹھوں کو ہونے والے نقصان کو کم کرتا ہے۔

جس پہلے شخص کو یہ دل لگایا گیا وہ 57 سالہ مشیل گریبیلاس تھیں جن کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ تقریباً دو مہینے سے ذرا پہلے ان کی سرجری کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں اب ایک بالکل مختلف شخص ہوں۔ میں اپنے آپ کو چالیس سال کی محسوس کر رہی ہوں۔ میں بہت خوش قسمت ہوں۔‘

اس کے بعد مزید دو کامیاب آپریشن کیے گئے ہیں۔

سینٹ ونسنٹ کے دل کی پیوندکاری کے یونٹ کے سربراہ پروفیسر پیٹر مکڈونلڈ کہتے ہیں کہ ’یہ پیش رفت اعضا کی کمی کے مسئلے کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔‘

خیال ہے کہ ’ہارٹ ان اے باکس‘ جسے کئی ممالک میں ٹیسٹ کیا جا رہا، 30 فیصد زیادہ زندگیاں بچا سکتا ہے۔

اس پیش رفت کو پوری دنیا میں سراہا گیا ہے۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے اسے ایک ’اہم ترقی‘ کہا ہے۔

فاؤنڈیشن میں کام کرنے والی ایک سینیئر نرس مورین ٹالبوٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان مریضوں کو دل کی پیوندکاری کے بعد ٹھیک ہوتے دیکھنا کتنا زبردست لگتا ہے، اس ترقی کے بغیر وہ اب تک کسی دل کے ڈونر کا انتظار کر رہے ہوتے۔‘