’ایبولا پر قابو پانے میں کم از کم چھ ماہ لگیں گے‘

جوان لیو نے عالمی برادری سے بھی مزید اقدامات اور عالمی ادارۂ صحت سے مضبوط قیادت کی اپیل کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجوان لیو نے عالمی برادری سے بھی مزید اقدامات اور عالمی ادارۂ صحت سے مضبوط قیادت کی اپیل کی

طبی خیراتی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

جینیوا میں ادارے کی سربراہ جوان لیو نے کہا ہے کہ وہاں ’حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور ان سے نمٹنا آسان نہیں۔‘

اس سے قبل عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ ایبولا کے پھیلاؤ کے بارے میں لگائے جانے والے اندازے درست نہیں تھے اور اس سے نمٹنے کے لیے ’غیرمعمولی اقدامات‘ درکار ہیں۔

ایبولا کا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔

جمعے تک اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 1145 ہو چکی ہے اور اب تک اس کے 2127 مریض سامنے آ چکے ہیں۔

جوان لیو نے کہا کہ اگرچہ گنی ابتدائی طور پر ایبولا کا مرکز تھا، مگر اب وہاں اس کے پھیلاؤ میں کمی آ رہی ہے اور اب توجہ دیگر ممالک خصوصاً لائبیریا پر مرکوز ہے۔

ایبولا ایک متاثر شدہ شخص کے جسمانی رطوبتیں سے رابطہ کرنے سے پھیل سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایبولا ایک متاثر شدہ شخص کے جسمانی رطوبتیں سے رابطہ کرنے سے پھیل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم لائبیریا میں حالات پر قابو نہ پا سکے تو خطے کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم ہفتوں کی نہیں مہینوں کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں مہینوں تک کام کرنے کے عزم کی ضرورت ہے۔ میں کہوں گی چھ ماہ اور یہ بھی انتہائی پرامید ہونے کی صورت میں۔‘

جوان لیو نے عالمی برادری سے بھی مزید اقدامات اور عالمی ادارۂ صحت سے مضبوط قیادت کی اپیل کی۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وائرس کی روک تھام کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ادارے کے مطابق یہ ایک چیلینج یہ ہے کہ جو علاقے ایبولا سے متاثر ہیں وہ ’انتہائی غربت، غیر فعال صحت کے نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ کا بھی شکار ہیں۔

تاہم عالمی ادارے کے مطابق ہوائی سفر کے ذریعے ایبولا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ کم ہے اور اسی وجہ سے کینیا ایئرویز نے ایبولا سے متاثرہ ریاستوں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ نہیں کی ہیں۔