ایبولا وائرس کے مریض کا امریکہ میں علاج ہو گا

،تصویر کا ذریعہReuters
ایبولا کے مریض ایک امریکی امدادی کارکن کا امریکی شہر ایٹلانٹا کے ایک ہسپتال میں علاج کیا جائے گا۔ یہ کارکن مغربی افریقہ میں خطرناک ایبولا وائرس سے متاثر ہو گیا تھا۔
اس مریض کا نام نہیں بتایا گیا، البتہ طبی حکام کے مطابق اگلے چند دنوں میں ہسپتال پہچنے کے بعد اس کا سخت حفاظتی اقدامات کے تحت علاج کیا جائے گا۔
افریقہ میں تاریخ کی بدترین ایبولا وبا پھیلی ہوئی ہے جس کے باعث اب تک 729 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں امراض سے بچاؤ کے مرکز سی ڈی سی کی ایک ترجمان باربرا رینلڈز نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ مریض کی منتقلی میں امریکی وزارت خارجہ کی مدد کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ آیا اس سے پہلے ایبولا کے کسی مریض کا امریکہ میں علاج کیا گیا ہے۔
تاہم ایک بیان میں ایٹلانٹا کے ہسپتال نے کہا کہ وہاں ایک ایسا مخصوص وارڈ موجود ہے جو خاص طور پر اس قسم کے وبائی امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے بنایا گیا ہے۔
توقع ہے کہ جمعے کے روز بین الاقوامی ادارۂ صحت اور ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقی ممالک کے رہنما اس مرض سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر دس کروڑ ڈالر کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیئرالیون کے صدر نے ملک میں 233 افراد کے مرنے کے بعد ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کر دیا ہے۔
ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو متاثرہ ملکوں میں جانے سے باز رہنے کو کہا ہے جب کہ اس نے متاثرہ علاقوں میں 50 مزید ماہرین بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔







