ایبولا سے بچاؤ کے لیے چمگادڑ کھانے پر پابندی

،تصویر کا ذریعہAlison Peel
افریقی ملک گنی میں مہلک وائرس ایبولا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے چمگادڑوں کی خریدو فروخت اور انھیں کھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
گنی کے وزیرِ صحت رینی لماہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ چمگادڑ گنی میں ایک مرغوب غذا ہے لیکن ملک کے جنوبی علاقوں میں ایبولا کے پھیلاؤ میں ان کا ’مرکزی کردار‘ رہا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ گنی میں ایبولا کے مریض سامنے آئے ہیں۔
تاحال گنی میں اس وائرس سے 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس کے ہمسایہ ممالک لائبریا اور سیرالیون میں بھی اس وائرس کے مشتبہ مریض سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
ایبولا وائرس قریبی میل جول سے پھیلتا ہے اور تاحال اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس وائرس سے ہلاکت کی شرح 25 سے 90 فیصد کے درمیان ہے اور اس کا تعلق وائرس کی شدت سے ہے۔
ایبولا سے متاثر ہونے کی علامات میں خون کا اخراج، اسہال اور قے شامل ہیں۔
گنی کے دارالحکومت کوناکری میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہا ہے کہ وزیرِ صحت نے چمگادڑوں کی فروخت اور انھیں بطور غذا استعمال کرنے پر پابندی کا اعلان ملک کے جنگلات کے دورے کے موقع پر کیا جو کہ اس وبا کا مرکز ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جو لوگ چمگادڑ کھاتے ہیں وہ انھیں اکثر ایک مصالحہ دار سوپ میں ابالتے ہیں جو کہ دیہات میں ان دکانوں میں فروخت ہوتا ہے جہاں لوگ الکحل خریدنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
مغربی اور وسطی افریقہ میں پائی جانے والی چمگادڑوں کی کچھ اقسام ایبولا وائرس کی قدرتی کیریئر ہوتی ہیں تاہم خود ان میں اس وائرس کی نشانیاں ظاہر نہیں ہوتیں۔







