تیس ہزار سال کے بعد ایک وائرس کو حیات نو بخشی گئی ہے

پائتھووائرس نامی اس جرثومے کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے اور یہ اب تک پایا جانے والا سب سے بڑا وائرس ہے

،تصویر کا ذریعہCNRS AMU

،تصویر کا کیپشنپائتھووائرس نامی اس جرثومے کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے اور یہ اب تک پایا جانے والا سب سے بڑا وائرس ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وائرس کو کم از کم 30 ہزار سال تک خوابیدہ رہنے کے بعد حیات نو بخشی گئی ہے۔

یہ وائرس سائبیریا کے برفیلے علاقے میں برف کی دبیز گہری سطح کے نیچے منجمد پایا گیا تھا۔ لیکن جب اسے وہاں سے نکال کر گرمی ملی تو ایک بار پھر سے یہ وبائی اور متعدی بن گیا۔

فرانسیسی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے انسانوں اور جانوروں کو وبائی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے سے برف کی چادریں ہٹیں اور زمین کھلی تو دوسرے وائرس پھیل سکتے ہیں۔

یہ تازہ تحقیق سائنس کے جریدے پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) میں شائع ہوئی ہے۔

فرانس کی ایک یونیورسٹی کے نیشنل سنٹر آف سائنٹیفک ریسرچ (سی این آر ایس) کے شعبے سے تعلق رکھنے والی پروفیسر ژاں میشیل کلیویری نے کہا: ’پہلی بار ہمیں ایسا وائرس نظر آیا ہے جو اتنی مدت بعد بھی متعدی ہے۔‘

تحقیق کے مطابق یہ قدیمی وبائی جرثومہ منجمد سطح کے 100 فیٹ نیچے دبا ہوا تھا۔ اسے ’پائتھو وائرس سائبیریکم‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ ان بڑے جراثیم کے گروپ سے تعلق رکھتا ہے جنھیں دس سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔

یہ جراثیم اتنے بڑے ہیں کہ دوسرے جراثیم کے مقابلے میں خوردبین سے نظر آتے ہیں اور پائتھووائرس نامی اس جرثومے کی لمبائی ڈیڑھ مائیکرومیٹر ہے اور یہ اب تک پایا جانے والا سب سے بڑا وائرس ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اس نے کم از کم 30 ہزار سال قبل کسی چیز کو اپنے وبائی اثرات سے متاثر کیا تھا لیکن تجربہ گاہ میں یہ ایک بار پھر سے جی اٹھا۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یک خلوی جانور امیبا کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یہ انسان یا دوسرے جانوروں کو متاثر نہیں کر سکتا۔

اس تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر چینٹل ایبرجیل نے بتایا: ’یہ وائرس خلیے میں داخل ہوتا ہے اسے کئی خلیوں میں تقسیم کر کے بالآخر اسے مار ڈالتا ہے۔ یہ امیبا کو مارنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن یہ انسانی خلیوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔‘

سی این آر ایس کے دونوں محققوں کا خیال ہے کہ سائبیریا کی اس دبیز برف کی چادر کے نیچے دوسرے خطرناک وبائی جراثیم ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ایبرجیل نے کہا: ’ہم اس کے ڈی این پر تحقیق کر رہے ہیں جس سے یہ پتہ چل پائے گا کہ ان میں کون سا مادہ خطرناک ہے۔‘

محققوں کا کہنا ہے کہ سائبیریا کا یہ علاقہ خطروں سے دوچار ہے کیونکہ سنہ 1970 کی دہائی کے بعد سے وہاں کی برف میں کمی آئی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں اس میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔