گھوڑوں کے گھومتے کان

،تصویر کا ذریعہGetty
جانوروں کے حساس کان عموماً انھیں شکاری جانوروں کے بارے میں پہلے سے خبردار کر دیتے ہیں۔ لیکن ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گھوڑے دوسرےگھوڑوں کے کانوں پر یہ جاننے کے لیے توجہ دیتے ہیں کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔
برطانوی یونیورسٹی سسیکس کے محققوں کے مطابق گھوڑوں کے گھومتے کان اطلاعات کی ترسیل کے بہت کارآمد آلات ہیں۔
یہ تحقیق سائنس جرنل ’کرنٹ بایالوجی‘ میں شائع کی گئی ہے۔
یہ تحقیقی ٹیم عموماً جانوروں کے رویوں اور سماجی ہم آہنگی کے ارتقا پر کام کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انھیں یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ گھوڑے ایک دوسرے سے کس طرح رابطہ قائم کرتے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر جینیفر واتھن کا کہنا ہے کہ ’دوسرے گھوڑے سے باخبر رہنا ان کے آپس میں بنیادی مواصلاتی نظام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے اور اسی سے دوسرے پیچیدہ سماجی روابط جنم لیتے ہیں۔‘
واتھن اور ان کی ساتھی محققین نے اس تحقیق میں 72 گھوڑے استعمال کیے۔
ان گھوڑوں کو انفرادی طور پر دوسرے گھوڑوں کے اشاروں کا تعین کرنا تھا۔ کچھ تجربوں میں گھوڑوں کے کانوں پر پٹی بھی باندی گئی۔
دوسرے جانورں کے طرح گھوڑے بھی اپنے حملہ آور کا تعین کرسکتے ہیں اور اپنے کان 180 ڈگری تک گھما سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر واتھن کا کہنا ہے کہ اب تک اس بات پر توجہ نہیں دی گئی کہ جانوروں کے کان مواصلاتی نظام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ ان کے کان اور آنکھ جب کسی سمت کا تعین کرتے ہیں تو اس سے ہمیں بصری اشارے ملتے ہیں۔‘
’گھوڑوں کی سماجی زندگی اور ان کے اپنے ساتھی گھوڑوں سے روابط بہت بامعنی ہوتے ہیں، اسی وجہ سے ان پر اس معاملے میں تحقیق بہت دلچسپ ثابت ہوئی ہے۔‘







