شہد کی مکھیوں کی بقاء کے لیے ٹاسک فورس

گزشتہ سرما میں امریکہ میں شہد کی مکھیوں کی آبادی میں 23 فیصد کم ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگزشتہ سرما میں امریکہ میں شہد کی مکھیوں کی آبادی میں 23 فیصد کم ہوئی تھی

امریکہ میں شہد کی مکھیوں کو بچانے کے لیے وائٹ ہاؤس نے خصوصی ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (ای پی اے) اور زراعت کے شعبے کے ماہرین اس مہم کی نگرانی کریں گے۔

اس مہم کے ذریعے شہد کی مکھیوں کی نئی آماجگاہوں پر80 لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کی جائے گی۔

گذشتہ سرما میں امریکہ میں شہد کی مکھیوں کی افزائش میں 23 فیصد کم ہوئی تھی۔

شہد کی مکھیوں کی افزائش میں کمی کی بڑی وجہ قدرتی خوراک کی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق شہد کی مکھیاں امریکہ کی زرعی فصلوں کو 15 ارب ڈالر مالیت کا فائدہ پہنچاتی ہیں۔

امریکہ میں شہد کی مکھیوں میں سی سی ڈی یعنی کولونی کولیپس ڈس آرڈر بیماری آ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اچانک غائب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

امریکہ میں چند ماحولیاتی گروہوں نے صدر براک اوباما پر شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست عمل نہ کرنے پر تنقید کی تھی۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ادارے کے صدر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے ای پی اے اور زرعی شعبے کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے چھ ماہ کے اندر حکمتِ عملی تیار کریں۔