برطانیہ: شہد کی مکھیوں میں ریکارڈ کمی

برطانیہ میں شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی تنظیم کے ایک سروے کے مطابق گذشتہ سال موسمِ سرما میں شہد کی مکھیوں کی آبادی میں ریکارڈ کمی آئی ہے۔
تنظیم نے گزشتہ چھ سالوں سے مکھیوں کی آبادی کا ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ زیادہ سردی اور بارش کی وجہ سے تقریباً ایک تہائی چھتے ضائع ہوگئے۔
برطانیہ کے تمام علاقوں میں شہد کی مکھیوں کی تعداد میں شدید کمی دیکھنے کو ملی ہے اور گذشتہ ایک سال کے مقابلے میں اس بار تقریباً دگنا نقصان ہوا ہے۔
برطانیہ میں گذشتہ چھ سالوں سے شہد کی مکھیوں کی آبادی کا مارچ کے آخر میں جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس جائزے میں مکھیاں پالنے والوں سے پوچھا جاتا ہے کہ اکتوبر کے مقابلے میں مارچ کے آخر میں اُن کے پاس کتنے کارآمد چھتے ہیں۔
اب تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس سال شہد کی مکھیوں میں ہونے والی 33 فیصد کمی بدترین تھی۔
سب سے زیادہ نقصان جنوب مغربی علاقوں میں ہوا جہاں تقریباً آدھے چھتے ضائع ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مکھیاں پالنے والے ایک شخص گلن ڈیوز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
انھوں نے کہا ’گذشتہ موسمِ گرما اور اس موسمِ سرما کے حالات کی وجہ سے مکھیاں ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر سارا سال دباؤ میں رہیں‘۔
کچھ مکھیاں پالنے والوں کا ماننا ہے کہ ان میں بڑھتے ہوئے انفیکشنز اور بیماریوں کی وجہ سے شاید مکھیاں کمزور ہو گئی ہیں اور ان میں موسم سرما کے خلاف قوت مدافعت کم پڑگئی ہے۔
انہی موسمیاتی حالات نے نئی ملکہ مکھیوں کے لیے بھی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
شہد کی مکھیوں میں اضافے کا دارومدار ان مکھیوں کے جوڑے بنانے اور انڈے دینے کی صلاحیت پر ہوتا ہے لیکن خراب موسم نے اس عمل کو بھی متاثر کیا۔
برطانیہ میں شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی تنظیم سے منسلک ٹم لووٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کسی بھی موسمیاتی تبدیلی سے ملکہ مکھی کی پرواز کے دوران جوڑے بنانے کے عمل کے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اگر ملکہ مکھی صحیح طور سے انڈے نہ دے پائے تو اس سے پوری آبادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ایک موسمیاتی عنصر اور بھی ہے جس سے شہد کی مکھیوں کی آبادی متاثر ہوئی۔ ٹھنڈ کے باعث مکھیاں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں تاکہ ایک خاص طرح کا درجہ حرارت قائم رہے جن سے ان کے قریب ذخیرہ شدہ شہد استعمال ہو جاتا ہے اور اگر موسم اس قدر ٹھنڈا ہو کہ مکھیاں کی نقل و حمل ممکن نہ ہو تو اس سے مکھیاں بھوکی رہ جاتی ہیں۔
مکھیاں پالنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ آنے والے مہینوں میں شہد کا کاروبار کرنے والوں کے لیے بہت بری خبر ہے۔ پچھلے سال برطانیہ میں شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی تنظیم نے بتایا تھا کہ شہد کی فصل میں سال 2011 کی نسبت 70 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس سال کے بارے میں بھی وہ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔







