’مکے سے بچاؤ کے لیے چہرے کے نقوش میں تبدیلی آئی‘

بائیولوجیکل ریویوز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چہرے کے نقوش میں تبدیلی عورتوں اور وسائل پر ہونے والی لڑائیوں کے باعث ہوئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبائیولوجیکل ریویوز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چہرے کے نقوش میں تبدیلی عورتوں اور وسائل پر ہونے والی لڑائیوں کے باعث ہوئی

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہمارے مرد آبا و اجداد نے مکے سے بچنے کے لیے چہرے کے موٹے نقوش اختیار کیے۔

اس تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ جو ہڈیاں چہرے پر مکہ کھانے کے باعث ٹوٹتی ہیں، وہ بھی ارتقا کے عمل سے گزر کر زیادہ مضبوط ہوئیں۔

تحقیق کے مطابق یہ وہ ہڈیاں ہیں جو مردوں اور عورتوں میں بہت مختلف ہیں۔

بائیولوجیکل ریویوز نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چہرے کے نقوش میں تبدیلی عورتوں اور وسائل پر ہونے والی لڑائیوں کے باعث پیش آئیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کئی سالوں تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ چہرے کی ہڈیوں کی مضبوطی کا راز خوراک تھی۔ تاہم تحقیق کار پروفیسر کیریئر اور ان کے ساتھی ڈاکٹر مائیکل مورگن کا کہنا ہے کہ چہرے کے نقوش میں تبدیلی کا سبب پرتشدد طرزِ زندگی تھا۔

اپنی تحقیق میں انھوں نے جدید انسانی لڑائیوں کے اعداد و شمار شائع کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق مکہ بازی میں چہرہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

’لڑائی کے نتیجے میں جبڑے کی ہڈی سب سے زیادہ ٹوٹتی ہے۔ اب ہمارے پاس ماہر سرجن موجود ہیں، لیکن 40 لاکھ سال قبل اگر جبڑے کی ہڈی ٹوٹ جائے تو ممکنہ طور پر یہ جان لیوا چوٹ ہوتی ہو گی، کیوں کہ زخمی ٹوٹنے کے باعث لوگ کچھ کھا نہیں کھا پاتے ہوں گے اور بھوکے مر جاتے ہوں گے۔‘

تحقیق دان پروفیسر کیریئر اور ان کے ساتھی ڈاکٹر مائیکل مورگن کا کہنا ہے کہ چہرے کے نقوش میں تبدیلی کا سبب پرتشدد طرزِ زندگی تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتحقیق دان پروفیسر کیریئر اور ان کے ساتھی ڈاکٹر مائیکل مورگن کا کہنا ہے کہ چہرے کے نقوش میں تبدیلی کا سبب پرتشدد طرزِ زندگی تھا