’ارتقا خود غرضوں کو سزا دیتا ہے‘

- مصنف, ملیسا ہوگن بوم
- عہدہ, سائنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
ایک نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ارتقا خود غرض لوگوں کو سزا دیتا ہے۔ اس سے قبل یہ خیال کیا جاتا تھا کہ خود غرضی کا ارتقائی فائدہ ہوتا ہے۔
اس کی بجائے دوسروں کے ساتھ تعاون مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ بات ایک ماڈل سے معلوم ہوئی جسے ’قیدی کا مخمصہ‘ کہا جاتا ہے، اور یہ گیم تھیوری کا جزو ہے۔
نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ ان کی تحقیق سے پتا چلا کہ اگر انسانوں میں صرف خودغرضانہ عادات پائی جاتیں تو نسلِ انسانی معدوم ہو چکی ہوتی۔
گیم تھیوری میں مخالفت یا تعاون جیسی صورتِ حال پیدا کرنے کے لیے ’کھیل‘ وضع کیے جاتے ہیں۔ اس سے سائنس دانوں کو پیچیدہ فیصلہ سازی کی حکمتِ عملی کا مطالعہ کرنے اور یہ جاننے کا موقع ملتا ہے لوگوں میں بعض خصوصیات کیوں پیدا ہوتی ہیں۔
مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے ’قیدی کا مخمصہ‘ نامی کھیل کا ماڈل استعمال کیا جس میں الگ الگ زیرِتفتیش دو ملزموں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنے ساتھی کی مخبری کریں یا نہیں۔
ایک ماڈل میں ہر ملزم کو یہ پیشکش کی جاتی ہے کہ اگر وہ اپنے ساتھی کا بھانڈا پھوڑ دے تو اسے آزاد کر دیا جائے گا جب کہ اس کے ساتھی کو چھ ماہ کی قید ہو جائے گی۔ تاہم یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ اس کا ساتھی مخبری نہ کرے۔
لیکن اگر دونوں ملزم مخبری کرنے کا فیصلہ کر لیں تو دونوں کو تین تین مہینے قید کی سزا ہو گی، لیکن اگر دونوں خاموش رہیں تو انھیں صرف ایک ماہ کی سزائے قید سنائی جائے گی۔
ممتاز ریاضی دان جان نیش نے یہ دکھایا تھا کہ مناسب حکمتِ عملی یہ ہے کہ دونوں قیدی ایک دوسرے کی مخبری کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دان اوراس تحقیق کے سربراہ کرسٹوف ایڈمی کہتے ہیں: ’بہت عرصے تک لوگ یہ سوال کرتے تھے کہ آیا نیش کا نظریہ درست ہے یا نہیں۔ لیکن اگر یہ درست ہے تو پھر ہم روزانہ یہ کیوں دیکھتے ہیں کہ جانور، جراثیم اور انسان آپس میں تعاون کرتے ہیں۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے قبل مواصلات کو تحقیق میں شامل نہیں کیا جاتا تھا:
’دونوں زیرِتفتیش قیدیوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کر سکیں تو وہ ایک ماہ کے اندر اندر آزاد ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کر پاتے تو انھیں ایک دوسرے کی مخبری کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
خودغرضی سے وقتی فائدہ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کا نقصان ہو گا، اور نسل ہی معدوم ہو جائے گی۔‘
اس سے قبل 2012 میں ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خودغرض لوگ اپنے تعاون کرنے والے ساتھیوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں، جس سے ایک ایسی دنیا معرضِ وجود میں آ سکتی ہے جو خودغرضوں سے بھری ہوئی ہو۔
اس کو ’خودغرضانہ‘ حکمتِ عملی کا نام دیا گیا تھا اور اس کا انحصار ایسے شرکا پر تھا جنھیں پہلے سے معلوم ہو کہ ان کے مخالفین نے ماضی میں کیا فیصلے کیے تھے اور وہ اپنے فیصلے ان کی روشنی میں طے کریں۔
ڈاکٹر ایڈمی کہتے ہیں کہ ارتقائی نقطۂ نظر سے مخالفین کے فیصلے سے آگاہی سے زیادہ عرصے تک فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا کیوں کہ اس طرح مقابل بھی اسی طرح کی حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے۔
ان کی ٹیم نے عین یہی بات معلوم کی ہے، کہ مخبری سے حاصل ہونے والا فائدہ قلیل مدتی ہوتا ہے۔ انھوں نے طاقت ور کمپیوٹر ماڈل استعمال کر کے لاکھوں کھیل کھیلے جن میں ایسا سادہ تعامل شامل تھا جس میں پہلے سے حاصل شدہ معلومات کو مدِنظر رکھا گیا تھا۔
ڈاکٹر ایڈمی نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’ہم نے کمپیوٹر میں بہت عام سی چیزیں ڈالیں، جن میں دو مختلف رویوں کے بارے میں فیصلے شامل تھے۔ ہم انھیں تعاون اور بےوفائی کہتے ہیں۔ لیکن جانوروں کی دنیا میں بھی ایسے کئی طرح کے جوڑے دار (دو رخے) رویے ہوتے ہیں، جیسے بھاگنے یا لڑنے کا فیصلہ۔
یہ ایسا ہی ہے جیسا سرد جنگ کے زمانے میں تھا، یعنی ہتھیاروں کی دوڑ۔ لیکن ہتھیاروں کی ایسی ہی دوڑیں ارتقائی حیاتیات میں ہر وقت ہوتی رہتی ہیں۔‘
برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو کولمین نے بتایا کہ ’خود ڈارون کو فطری دنیا میں تعاون دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ وہ خاص طور پر سماجی کیڑوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے۔‘
انھوں نے کہا: ’آپ سمجھیں گے کہ قدرتی چناؤ کے نظریے کے تحت ان افراد کو فائدہ پہنچے گا جو خودغرض اور دوسروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والے ہوں، لیکن دراصل ہم عشروں کی تحقیق کے بعد جانتے ہیں کہ یہ چیزوں کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنانے کا عمل ہے، خاص طور پر اگر آپ خودغرض جین کے تصور کو مدِنظر رکھیں۔
’یہ لوگوں کی بقا کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ جینز کی بقا کا معاملہ ہے، جو افراد یا جانوروں کو اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے آلات کی طرح استعمال کرتے ہیں۔‘
’خودغرض جینز‘ کو آپس میں تعاون کرنے والے جانداروں سے فائدہ ہوتا ہے۔







