ڈی این اے کے ذریعے کینسر کے خطرے کی نشاندہی

،تصویر کا ذریعہSPL
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے ایک ٹیسٹ کے ذریعے مردوں کو پروسٹیٹ کینسر لاحق ہونے کے شدید خطرے کے بارے میں پتہ لگایا جا سکتا ہے۔
لندن میں انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کا پتہ لگانے کے لیے جلد ہی مردوں کے بھی جینیاتی ٹیسٹ کیے جائیں گے جس طرح خواتین میں بریسٹ کینسر معلوم کرنے کے کیے جاتے ہیں۔
محققین نے تحقیق کے لیے پروسٹیٹ کینسر کے 191 مریضوں اور ان کے کم از کم تین قریبی رشتہ داروں کے خون کے نمونے لیے۔
ان نمونوں کو بشمول بی آر سی اے جینز، تقلیب شدہ جین (mutant) کی موجودگی کے لیے ٹیسٹ کیا گیا۔ پہلے کی گئی تحقیق کے مطابق بی آر سی اے جینز چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان سے وابستہ ہے۔
یہ تازہ تحقیق برٹش جرنل آف کینسر میں شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سات فیصد مردوں میں 14 خطرناک تقلیب شدہ جینز میں سے ایک پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ سات فیصد وہ افراد تھے جنھیں خطرناک پروسٹیٹ کینسر لاحق تھا اور جو ان کے بدن کے دیگر حصوں تک پھیل رہا تھا۔
ایک محقق ڈاکٹر صوفیہ کوٹی جرائی نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے نظر آ رہا ہے کہ آئندہ دو تین سالوں میں پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں اور ان مردوں کو جن کے خاندان میں یہ مرض رہا ہو، ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی سہولت مہیا کر دی جائے گی۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ اس کے بعد مرد اپنے پروسٹیٹ کو آپریشن کے ذریعے نکال دیا کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروسٹیٹ کینسر دنیا کے اکثر ممالک میں مردوں میں عام ہے۔ صرف برطانیہ میں سالانہ 40 ہزار مردوں میں اس مرض کی نشاندہی ہوتی ہے۔
خیراتی ادارے پروسٹیٹ کینسر یو کے میں ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر آئن فریم نے کہا: ’ہمیں جلد ہی اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کون سے مردوں کو پروسٹیٹ کینسر لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جینیاتی ٹیسٹ سے کینسر کے علاج کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی آ جائے گی۔‘







