زمانۂ قدیم میں بھی دانتوں کا خلال کیا جاتا تھا

قدیم زمانے کے انسانوں کے دانتوں پر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ 18 لاکھ برس پہلے بھی انسان دانتوں میں خلال کیا کرتے تھے۔
محققین کی ایک ٹیم نے جارجیا سے ملنے والے ایک قدیم انسانی جبڑے کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ جبڑا افریقہ سے باہر زمانۂ قدیم میں انسان کے وجود کا بڑا ثبوت ہے۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو جبڑے میں مسوڑوں کی بیماری کا بھی پتہ چلا جو شاید بار بار خلال کرنے سے ہوئی تھی۔
پی این اے ایس میں شائع ہونے والے اس تحقیق میں سائنس دانوں نے کہا کہ اس مطالعے سے انھیں انسانوں کے دانتوں کے تنوع کی وضاحت کرنے میں مدد ملی۔
محققین نے قدیم انسانی دانتوں کا ایک نئے فورینزک طریقے سے مطالعہ کیا۔ اس جبڑے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پرانے پورپی لوگوں کے آبا و اجداد کا ہے۔
دانتوں سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک شخص نے کیا کھایا ہے یا اس کی عمر کیا ہے، لیکن ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے کہ جارجیا سے لیے گئے قدیم انسانی دانت اتنے متنوع کیوں ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کی زیورخ یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق کی سربراہ آنی مارگویلاشویلی نے کہا کہ جو سائنس دان قدیم انسانی جبڑے کے فاسلز پر کام کرتے ہیں انھیں دانتوں میں خرابی اور فاسلز کی عمر پر توجہ دینی چاہیے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر دانت خراب ہوتے جا رہے ہوں تو اس سے وقت کے ساتھ جبڑے کی شکل تبدیل ہونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’جس شخص کا یہ جبڑا ہے وہ نوجوان تھا اور وہ دانتوں میں خلال کرتا تھا کیونکہ ان کے دانت خراب نہیں ہوئے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ اس کے دانتوں اور مسوڑوں کے درمیان ایک جگہ خراب تھی۔ یہ جگہ گولائی میں اندر کو کٹی ہوئی تھی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں خلال کیا گیا ہو گا۔‘
محققین نے زمانۂ قدیم کے انسانوں کے بڑی تعداد میں باقیات سے چار جبڑے لیے اور اس کا تجزیہ کیا۔
جارجیا میں دمانیسی ایک ایسی جگہ ہے جو افریقہ سے ہجرت کرنے والے زمانۂ قدیم کے انسانوں کے مطالعے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
امریکہ میں آرکینساس یونیورسٹی کے پیٹر یونگار نے کہا کہ اس مطالعے سے فاسلز کو ایک نئے طریقے سے دیکھنے کا طریقہ مل گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’قدیم انسانوں کے فوسلز میں عام طور پر خلال کے نشانات پائے جاتے ہیں لیکن یہ تحقیق کلینیکل اور فورینزک ہے جو ممکنہ طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔‘







