گوگل بامقابلہ اوریکل: کاپی رائٹس کا مقدمہ شروع

اوریکل کے اس دعوے پر کہ گوگل نے اس کے پیٹنٹ اور کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کی ہے آج سان فرانسسکو میں مقدمہ شروع ہو رہا ہے۔
اوریکل نے تقریباً ایک ارب ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمپیوٹر پروگرام جاوا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا اینڈرائیڈ سسٹم لینگیوج پروگرامننگ سے متعلق تخلیقی حقوقِ ملکیت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
سافٹ وئیر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ مقدمہ ایک تشویشناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
جاوا 1995 میں شروع کیا گیا تھا جسے پورے کمپیوٹر پلیٹ فارم پر استعمال کی اجازت تھی اور وہ کسی ایک قسم کے نظام کے لیے محدود نہیں تھا۔
2009 میں جاوا کی اصلی مالک سن مائیکرو سسٹم خریدنے کے بعد اس کے جملہ حقوق تجارتی ہارڈ وئیر اور سفاٹ وئیر مہیا کرانے والی کمپنی اوریکل کے پاس آ گئے۔
اوریکل کا کہنا ہے کہ اس کے جملہ حقوق کا استعمال کر نے کے بعد اینڈرائیڈ مفت مہیا کر کے گوگل نے موبائل فون استعمال کرنے والوں کو جاوا کا لائسنس دینے کے اس کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس کیس کا مرکز گوگل کی جانب سے جاوا کا استعمال کیا جانا نہیں ہے جو کوئی بھی بغیر لائسنس کے استعمال کر سکتا ہے بلکہ ایسے 37 پروگرام ہیں جو پروگرام بنانے والوں کو جاوا کے مفت استعمال کی اجازت دیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







