ٹی بی کے نئے طریقۂ علاج پر تحقیق

سائنسدانوں نے تپ دق یا ٹی بی کے علاج کے لیے ایک نئے اور زیادہ مؤثر طریقے پر تحقیق کا آغاز کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق کامیاب ہو جاتی ہے تو تپ دق کے علاج کا یہ مؤثر ترین طریقہ ہو گا۔

سائنسدانوں نے ٹی بی کا سبب بننے والے جرثومے کے اندر ایک ایسا کیمیائی ردعمل تلاش کیا ہے جو اس جرثومے کی ازخود تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ علاج خاصا مہنگا ہو سکتا ہے اس لیے دوا بنانے والے بین الاقوامی کمپنیاں اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لیں گی کیونکہ اس بیماری میں مبتلا بیشتر افراد کا تعلق دنیا کے غریب ترین طبقوں سے ہے۔

تپِ دق سانس سے جڑی ایک بیماری ہے جوہوا کے ذریعے پھیلتی ہے اور متاثرہ افراد کے تھوک اور چھینک سے دوسرے انسانوں تک پہنچتی ہے۔

یہ زيادہ تر پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے لیکن اس سے دوسرے اعضاء کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔