آب و ہوا میں تبدیلی، وقت نکل رہا ہے

اقوام متحدہ کے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق ایک اعلٰی اہلکار کا کہنا ہے کہ بنیادی باتوں پر اختلاف کی وجہ سے عالمی حدت کے بارے میں نئے معاہدے کے لیے وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں نئے مذاکرات کے آغار پر ویو ڈی بوئر نے کہا کہ اگرچہ سیاسی اشارے اچھے ہیں مگر پیشرف بہت ہی سست رو ہے۔

جرمنی کے شہر بون میں ایک ہزار کے لگ بھگ حکام ایک ہفتے تک غیر رسمی بات چیت میں مصروف رہیں گے۔

اس بات چیت کا مقصد دسمبر میں کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کے آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق نئے معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

مسٹر بوئر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بہت سے معاملات پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مفادات مختلف النوع اور وقت کم ہے، ایسے میں ایک پیچیدہ دستاویز میز پر پڑی ہے جس میں کئی حل طلب سوال موجود ہیں۔

سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کونسا ملک عالمی حدت میں اضافہ کرنے والی گیسوں کو کم کرنے کا عزم کرے گا۔

ترقی یافتہ ممالک کہتے ہیں کہ چین اور بھارت زیادہ آلودگی پھیلا رہے ہیں اس لیے انہیں معاہدے میں شریک ہونا چاہیے۔

تاہم ترقی پذیر ممالک کا موقف ہے کہ فضا میں جتنی آلودگی موجود ہے وہ صنعتی ملکوں نے پیدا کی ہے۔

یہ اجلاس غیر رسمی ہے اور شاید مسائل کے حل کے لیے زیادہ قابل عمل تجاویز پیش نہ کر سکے تاہم اس سے یہ اشارے ضرور مل جائیں گے کہ دسمبر کی کانفرنس کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے۔