زہرہ کے دھبے سے ماہرین حیران

سیارہ زہرہ
،تصویر کا کیپشنزہرہ پر ماحول میں بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پائی جاتی ہے

سیارہ زہرے کے بادلوں میں نظر آنے والے عجیب چمکدار دھبے نے ماہرینِ فلکیات کو چکرا دیا ہے۔

اس دھبے کی نشاندہی انیس جولائی کو امریکہ کے ایک شوقیہ ماہرِ فلکیات نے کی تھی اور بعدازاں یورپی خلائی ادارے کے وینس ایکسپریس خلائی جہاز نے اس کی تصدیق بھی کی ہے۔

وینس ایکسپریس سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ دھبہ زمین سے دیکھے جانے سے چار دن قبل ظاہر ہوا تھا۔ اس کے بعد سے یہ دھبہ حجم میں بڑا ہوتا گیا ہے اور اسے زہرہ پر چلنے والی ہوائیں پھیلا رہی ہیں۔

سائنسدان تاحال یہ نہیں جان سکے ہیں کہ یہ دھبہ کیسے وجود میں آیا تاہم ان کے نزدیک آتش فشانی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سیارہ زہرہ کی زیادہ تر سطح آتش فشانی کی وجہ سے وجود میں آئی ہے تاہم آج تک اس آتش فشانی کا کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

.تاہم اگر یہ دھبہ کسی آتش فشانی کا نتیجہ ہے تو یہ کسی انتہائی طاقتور آتش فشانی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے کیونکہ زہرہ کے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بنے ماحول میں ان گھنے بادلوں تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔

ایک خیال یہ ہے کہ دھبے کی وجہ سورج کے چارج شدہ ذرات ہیں جو زہرہ سے ٹکرا رہے ہیں یا پھر کسی ماحولیاتی تبدیلی نے اس چمکدار عنصر کو ایک جگہ پر جمع کر دیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ زہرہ کی سطح پر چمکدار مقامات کی نشاندہی ہوئی ہے لیکن اس مرتبہ یہ دھبہ ایک چھوٹی جگہ پر ہونے کی وجہ سے الگ ہے۔

خیال رہے کے ماہرینِ فلکیات آج کل مشتری کی سطح پر پڑنے والے ایک نشان کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ کسی شہابیے کے ٹکرانے سے وجود میں آیا ہے۔