زمین کو زندگی بخشنے والے ’سورج دیوتا‘ سے جڑے افسانے اور اُن کی حقیقت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قدیم یونانی خاکہ نگار ایسکائلس نے ’پرومیتھیئس‘ نامی دیوتا کی کہانی بیان کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ کیسے وہ نہ صرف انسانوں کے لیے آگ لے کر آئے بلکہ اُنھیں زراعت اور فنِ تعمیر کی تکنیکیں بھی سکھائیں تاکہ وہ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکیں، جس کی بنا پر وہ ایک خانہ بدوش اور کمتر زندگی کو چھوڑ کر ایسے معاشرے کی بنیاد ڈالیں جس میں ان کی زندگیاں اور ان کے ماحول محفوظ ہوں۔
فرانسیسی فلسفی ایما کارینینی ’دی سن: متھس، ہسٹری اینڈ سوسائٹیز‘ کی مصنف ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پرومیتھیئس کی اس کہانی میں سورج کی روشنی کے استعمال میں موجود دشواری اور اسے پکڑنے کے انسانی جنون کی روداد بیان کی گئی ہے۔
اس بات پر تو بحث کی جا سکتی ہے کہ کیا سورج اب بھی ہماری روز مرّہ کی زندگیوں میں وہی کردار ادا کرتا ہے جو پہلے کسی زمانے میں ہوتا تھا لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس کے اثرات فائدے کے ساتھ ساتھ نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔
اس کی تیز حدت اور روشنی ہمیں زندہ رکھتی ہے لیکن اگر اس کی دھوپ میں بہت زیادہ رہا جائے تو یہ ہمارے لیے مشکلات بھی کھڑی کر سکتی ہے۔
سورج موسمیاتی تبدیلی میں کردار ادا کرتا ہے مگر اس کی وجہ نہیں بنتا۔ آج سائنس سورج کو چھوئے بغیر بھی ناقابلِ یقین حد تک اس کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ناسا کا ’پارکر‘ خلائی جہاز ایک یورپی مشن اور ایک طاقتور ٹیلی سکوپ کی مدد سے سورج کے پیچیدہ رویے کو انتہائی تفصیل کے ساتھ دیکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
مگر سورج کے بارے میں جاننے کے لیے صرف اس کی تابکاری، مقناطیسی قوت، آئینز اور فوٹونز شامل نہیں ہیں بلکہ اس سے متعلق کئی دیومالائی کہانیاں بھی ہیں۔
سورج دیوتا
سورج کئی تہذیبوں، معاشرتی تبدیلیوں، سلطنتوں اور مذاہب، فلسفے اور انسانی سوچ کی تشکیل میں کردار اد کرتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانوں کا سورج کے ساتھ سب سے اہم تعلق زرعی انقلاب کے دور میں تقریباً 12 ہزار سال پہلے نیولیتھک دور میں ہوا اور سورج اُن کی فصلوں کے لیے اہم بن گیا۔
فلسفی ایما کارینینی کہتی ہیں کہ اس انقلاب سے قبل زیادہ تر مذاہب مقامی دیوتاؤں پر مبنی تھے مثلاً پہاڑ یا اس خطے کے جانور مگر بعد میں سورج نے ایک غالب کردار حاصل کر لیا۔
اُنھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام ’دی فورم‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سورج پھر ایک خدا بن گیا کیونکہ یہ زندگی فراہم کرنے کا بنیادی، عالمی اور بھرپور ذریعہ تھا۔‘
’یہ ایسی چیز تھی جس کے بارے میں سب جانتے تھے اور اچھے موسم اور بھرپور پیداوار کے لیے اس سے دعا مانگ سکتے تھے۔ اور جب یہ انھیں روشنی فراہم کرتا تو یہ اس کو خراجِ عقیدت بھی پیش کرتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کئی قدیم ثقافتوں نے ایسی تعمیرات کیں جہاں سال کے طویل ترین دن کے موقع پر سورج اُن کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہے۔
ان میں سب سے مشہور تعمیرات میں سے ایک انگلینڈ کا ’سٹون ہینج‘ ہے حالانکہ اس سے بھی قدیم آئرلینڈ کا ’نیوگرینج‘ ہے جو پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ہے اور سال کی طویل ترین رات کا پتا دیتا ہے۔
سورج کی عبادت قدیم ادوار میں ایشیا سے لے کر مصری تہذیب تک، وسطی امریکہ میں مایان اور ایزٹیک تہذیبوں سے لے کر جنوبی امریکہ میں اِنکا لوگوں تک رائج رہی ہے۔
ایما کارینینی کہتی ہیں کہ ’لہٰذا سورج سربراہانِ ریاست اور اشرافیہ کے لیے اپنی قوت برقرار رکھنے کا ایک نہایت اہم نشان بن گیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اشرافیہ اور حکمران سورج کی عبادت کے ذریعے عوام میں اتحاد قائم کرتے اور اپنے اقتدار کا جواز پیدا کرتے۔
’مثال کے طور پر فرعون اخیناتن نے وحدانیت کے تصور پر مبنی پہلا مذہب قائم کیا۔ اُنھوں نے ایک مقامی خدا ’اتن‘ کو سب پر غالب قرار دیا۔ یہ ان کے لیے بطور بادشاہ اپنے اختیار کی عکاسی کرنے کا بہترین طریقہ تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سورج کی روشنی کا استعمال
آسمان میں سورج کی مسلسل اور زبردست موجودگی اور ساتھ ہی ساتھ گرمی اور دھوپ پیدا کرنے کی اس کی واضح قوت کے باعث تاریخ میں اس کی قوت کو پکڑنے، کنٹرول کرنے اور اسے استعمال کرنے کی کئی کوششوں کا تذکرہ ملتا ہے۔
سب سے پہلے آئینوں کا استعمال کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم مصریوں نے پالش شدہ سطحوں کے ذریعے سورج کی روشنی منعکس کر کے اہرامِ مصر کے اندر روشنی فراہم کرنے کا انتظام کیا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یونانی ماہرِ فزکس، انجینیئر، ماہرِ فلکیات اور مؤجد ارشیمیدیس نے 213 قبلِ مسیح میں سائیراکیوز کے محاصرے کے دوران آئینوں کے ذریعے سورج کی روشنی کو مرتکز کر کے رومی بحری جہازوں کو جلا دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برسوں بعد لیونارڈو ڈا ونچی نے کئی مربع کلومیٹرز پر مشتمل آئینوں کے ذریعے پورے شہر کا پانی گرم کرنے کا تصور پیش کیا۔
اس دور میں ان کے پاس اس دوراندیش منصوبے کے لیے درکار ٹیکنالوجی نہیں تھی تاہم یہیں سے سولر پینلز کا تصور آیا ہو گا جو اب توانائی کا عام متبادل ذریعہ ہے۔
سائنسی انقلاب پولش ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات نکولاس کوپرنیکس کے متنازع تصورات سے شروع ہوا جن کی تصدیق کئی سو برس بعد اطالوی ماہرِ فلکیات گلیلیو نے اپنی دوربین کے ذریعے مشاہدوں سے کی، یعنی کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں، نہ کہ سورج زمین کے گرد۔
ہیلیوسینٹرک نظریے نے سورج کے بارے میں ہماری سوچ اور ہمارے اس سے تعلق کو بدل دیا۔ یہیں سے سورج کے بارے میں ہمارے سائنسی مطالعے کا آغاز ہوا جو آنے والے کئی برسوں سے ہوتے ہوئے اب تک جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سورج پر دھبے اور مقناطیسی لہریں
سنہ 1859 میں پوری دنیا کے ماہرینِ فلکیات سورج کی سطح پر نمودار ہوتے دھبے دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔
ان میں سے علمِ فلکیات کے شوقین ایک انگریز رچرڈ کیرنگٹن تھے، جو اُس سال یکم ستمبر کو لندن میں ایک دوربین سے دیکھ رہے تھے، کی آنکھیں اچانک تیز روشنی سے چندھیا گئیں۔ اُنھوں نے کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) دیکھی تھی جو سورج کی کورونا کہلانے والی بالائی فضا سے ہونے والی مقناطیسی پلازما کی بوچھاڑ تھی۔
یہ واقعہ کوئی پانچ منٹ کے لیے ہوا ہو گا مگر 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں یہ 15 کروڑ کلومیٹر کا سفر کر کے ہماری زمین تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس مشاہدے کے بعد ایک دن زمین کو اچانک ایک ایسے مقناطیسی طوفان کا سامنا کرنا پڑا جس سے ٹیلی گراف سسٹمز متاثر ہو گئے اور عموماً صرف قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی سے نظر آنے والی اوروا روشنیاں غیر معمولی طور پر ہوانا، کیوبا، سینٹیاگو اور چلی سے بھی نظر آنے لگیں۔
کیرنگٹن نے نقطے ملائے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ مفروضہ پیش کیا کہ ایسے شمسی لہروں اور زمین پر ہونے والی مقناطیسی اتھل پتھل آپس میں منسلک ہیں۔
تب سے اس شمسی طوفان کو ’کیرنگٹن ایونٹ‘ کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی کولوریڈو نیشنل سولر آبزرویٹری کی ڈائریکٹر ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن کلیئر رافٹیری کا کہنا ہے کہ سورج کی مقناطیسی فیلڈ ہی دراصل ہمارے ارد گرد تمام تر شمسی نقل و حرکت کی بنیاد ہے۔
سورج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک بڑی مقناطیسی فیلڈ کے علاوہ چند چھوٹی چھوٹی شمسی مقناطیسی فیلڈز کی نشان دہی بھی ہو چکی ہے جن کی جانب سولر پلازما میں موجود چارجڈ آئنز لپکتے ہیں۔
کلیئر رافٹیری کا کہنا ہے کہ سورج کا وسطی حصہ زیادہ تیزی سے گھومتا ہے جس کی وجہ سے یہاں موجود مقناطیسی فیلڈ ایک دھاگے کی طرح اپنے ہی گرد لپیٹنا شروع ہو جاتی ہے۔
یہ مقناطیسی فیلڈ اکھٹی ہو جاتی ہے اور ایک تنی ہوئی گانٹھ جیسی کیفیت اختیار کر لیتی ہے جس میں توانائی اکھٹی ہو جاتی ہے جسے سولر فلیئر کہا جاتا ہے۔
شمسی طوفان اور اس کے اثرات
جب یہ سولر فلیئر شمسی ہوا کی صورت میں خارج ہوتے ہیں تو واقعات کا ایک ایسا سلسلہ جنم لیتا ہے جو 11 سال میں ایک بار ہوتا ہے اور اسے شمسی طوفان کہتے ہیں۔
کلیئر رافٹیری کے مطابق زمین پر اس کا ڈرامائی اثر ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPOT
’اس سے ایسے الیکٹرک کرنٹ پیدا ہو سکتے ہیں جو بجلی پیدا کرنے والے پاور گرڈز اور ٹرانسفارمرز کو متاثر کر سکتے ہیں، جی پی ایس سگنل میں خلل پڑ سکتا ہے اور تابکاری سے جہاز متاثر ہو سکتے ہیں۔‘
’جیسے جیسے ہماری زندگی ٹیکنالوجی پر منحصر ہونے لگی ہے، یہ اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔‘
سنہ 2017 میں جب کیریبیئن میں سمندری طوفانوں نے تباہی مچائی، خصوصاً پورٹو ریکو میں، تو وہ ایسا وقت تھا جب بڑی تعداد میں سولر فلیئر خارج ہوئے تھے جنھوں نے ریڈیو سگنلز کو متاثر کیا تھا اور امدادی سرگرمیاں مشکلات کا شکار ہو گئی تھیں۔
دنیا بھر میں اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ موسمی شدت کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ اور اس چیلنج کا حل تکلاش کرنے کے لیے اب کچھ لوگ سورج کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
فلپ جج کولوریڈو کی ہائی الٹیچیوڈ آبزرویٹری کے پرنسپل سائنسدان ہیں جنھوں نے بی بی سی سے اس اچھوتے خیال کے بارے میں بات کی جس کے تحت خلا میں سورج کی روشنی کو روکنے کے لیے رکاوٹ تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
’یہ خلا میں ایسا بادل بنانے جیسا ہو گا جس کے بعد سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ سکے گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ممکن تو ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔
’ہمیں خلا کو صاف رکھنا ہے تاکہ کائنات کو دیکھا اور سمجھا جا سکے۔ زمین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سادہ طریقے اپنائے جا سکتے ہیں جیسا کہ چھتوں پر سفید رنگ کروانا۔‘
کلیئر رافٹیری بھی ان سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھنا اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سورج نہیں ہے۔‘
’سورج کی روشنی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا بہت خطرناک ہو گا۔ ہم ایک مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں شاید کئی اور مسائل پیدا کر دیں گے جو زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ سورج سے متعلق معلومات کے حوالے سے یہ اہم وقت ہے۔
امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے پارکر سولر پروب کی مدد سے، جو سورج تک 90 فیصد فاصلہ طے کر چکا ہے، پیچیدہ مقناطیسی فیلڈز سے گزرتے ہوئے تقریباً سورج کو چھو لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر ہوائی میں موجود ٹیلی سکوپ کی مدد سے سورج کی سطح کی تین گنا بڑی تصویریں حاصل کی جا چکی ہیں۔
کلیئر رافٹیری کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک بڑے ستارے کے ماحول میں جی رہے ہیں اور اس کو سمجھنا ہمارے لیے نہایت مفید ہو سکتا ہے۔‘
سورج کا انصاف
ہم کون ہیں اور کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، ان سوالات سے بے غرض سورج ہم سب کو ایک ہی طرح متاثر کرتا ہے۔
ایما کارینینی کا کہنا ہے کہ ’ہم سورج کو صرف ایک ستارے کے طور پر دیکھتے ہیں یا پھر سائنسی نقطہ نظر سے بطور ایک قدرتی شے کے، لیکن اس کا ایک معاشرتی پہلو بھی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے یامبولو کی ’آئی لینڈز آف دی سن‘ اور ٹوماسو کیمپانیل کی ’دی سٹی آف دی سن‘ کا حوالہ دیا جن میں سورج کو خوشی کی کیفیت سے جوڑا گیا ہے۔
سورج کو برابری کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ مفت ہے، سب کو حاصل ہے، اور اس میں سب کی بھلائی ہے۔
’ہم سورج کی جو روشنی حاصل کرتے ہیں، اس میں ہمارے ہمسائے کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ یہ سب کے لیے توانائی کا ذریعہ ہے۔‘











