اورٹ کلاؤڈ: نظام شمسی کے گرد برفانی بادلوں کا راز کیا ہے؟

icy clouds

،تصویر کا ذریعہJeff Overs/BBC

سنہ 2020 کے موسم گرما کے چند ہفتوں میں اگر آپ رات کو صاف آسمان کی تلاش کر رہے تھے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ نے ہمارے نظام شمسی کے کسی حصے میں کسی نئے مہمان کو ضرور دیکھا ہو گا۔

اگر دوربین سے دیکھا گیا ہو تو اس کی شکل ایک کومٹ یا دم دار ستارے جیسی ہو گی۔ ایک روشن نیوکلیئس اور لمبی دم جس پر برف جمی ہوئی تھی اور جسے سورج کی گرمی گیس میں تحلیل کر رہی تھی۔ جولائی کے اوائل میں اسے شمالی نصف کرہ میں بغیر دوربین کے بھی دیکھا جاسکتا تھا۔

لیکن پھر یہ غائب ہوگیا۔ کسی نے بھی اس دم دار ستارے جسے سی/2020 ایف 3 (نیووائز) کا دلکش نام دیا گیا تھا کو پھر نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی اسے دوبارہ کبھی دیکھ پائے گا۔ نہ ہی ان کے بچے، یا ان کی کئی نسلیں اور ان کے بچوں کے بچے اسے دیکھ پائیں گے۔ کیونکہ یہ دم دار ستارا اب چھ ہزار آٹھ سو سال سے پہلے نظر نہیں آئے گا۔

یہ ایک مختصر اڑان تو تھی لیکن زیادہ قابل ذکر بھی تھی اور وہ اس لیے کہ کئی دم دار ستارے ہماری زندگیوں میں متعدد مرتبہ آسمان پر نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سی/2020 ایف 3 (نیووائز) ہمارے نظام شمسی کے سب سے کم دریافت شدہ اور انتہائی پراسرار حصوں میں سے آیا تھا یعنی وسیع، منجمد اورٹ کلاؤڈ سے۔

یہ نظام شمسی کے دور دراز حصے میں دریافت ہوا ہے، سیارچوں کی پٹی اور گیس کے بنے ہوئے بڑے سیاروں سے بہت دور، یورینس اور نیپچون کی برفیلی دنیاؤں سے بھی کہیں دور، بلکہ پلوٹو کے دور دراز مدار سے بھی بہت پرے۔ یہ سورج سے نکلنے والے پلازما ذرات سے بننے والی حفاظتی تہہ ہیلیوسفیئر کے بیرونی کنارے سے بھی باہر ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے نظام شمسی کا اختتام ہوتا ہے اور انٹر سٹیلر سپیس کا آغاز ہوتا ہے۔

ایک بہت بڑے خول کی طرح اورٹ کلاؤڈ ہمارے نظام شمسی کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ نہ صرف اس لکیر میں جہاں سیارے، سیارچے اور بونے سیارے پائے جاتے ہیں، بلکہ یہ ہر سمت میں موجود ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمیں پوری طرح سے یقین نہیں ہے کہ یہ دیو قامت برفیلا گنبد اصل میں وہاں موجود بھی ہے کہ نہیں۔

The Oort Cloud is thought to consist of billions, if not trillions, lumps of ice and rock that formed at around the same time as the planets (Credit: Pablo Carlos Budassi)

،تصویر کا ذریعہCarlos Budassi

،تصویر کا کیپشناورٹ کلاؤڈ میں اگر کھربوں نہیں تو عربوں برف کے ٹکڑے اور پتھر موجود ہیں

ماہرین فلکیات نے کبھی بھی اورٹ کلاؤڈ کو براہ راست نہیں دیکھا اور اب تک انسان کا بھیجا گیا سب سے دور تک پہنچنے والا خلائی جہاز وائیجر 1 بھی اگلے 300 سالوں تک وہاں تک نہیں پہنچ پائے گا۔ لیکن نئی تحقیق اور آنے والے خلائی مشن اب اس کے کچھ رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ سی/2020 ایف 3 (نیووائز) جیسے دور دراز دم دار ستاروں کے یہاں آنے سے بھی کچھ اشارے مل رہے ہیں۔

اورٹ کلاؤڈ کی موجودگی کی پیشگوئی سب سے پہلے 1950 میں جان اورٹ نے نیووائز جیسے دم دار ستاروں کے وجود کی وضاحت کرتے ہوئے کی تھی۔

قلیل مدتی دم دار ستارے جو عام طور پر سورج کا چکر لگانے میں 200 سال سے کم وقت لیتے ہیں اور نیپچون سے باہر کائپر بیلٹ کہلانے والی برف کی ڈسک سے آتے ہیں، ان کے آغاز کے متعلق بتانا زیادہ آسان ہے، بہ نسبت اُن طویل مدتی دم دار ستاروں کے جو سورج کا ایک مدار مکمل کرنے میں 200 اور 1000 سال کے درمیان لیتے ہیں۔

ان طویل مدتی دم دار ستاروں کے مدار ایسے ہوتے ہیں کہ پہلے تو یہ سورج کے انتہائی قریب ہوجاتے ہیں اور پھر انتہائی دور چلے جاتے ہیں۔

اورٹ نے ایک نظریہ دیا کہ یہ دم دار ستارے پتھروں اور برف کی بنی چیزوں کے ایک دور دراز جمگھٹے سے آ رہے ہیں اور یہ جگہ ہمارے نظام شمسی کی حدود سے بہت دور ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ دور دراز چیزوں کا یہ خول یا جمگھٹا سورج سے تقریباً 306 ارب کلومیٹر کے فاصلے سے لے کر 756 ارب کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ زمین اور سورج کے درمیان 15 کروڑ کلومیٹر فاصلے (ایک ایسٹرونامیکل یونٹ) کے مقابلے میں دو ہزار سے لے کر پانچ ہزار گنا زیادہ فاصلہ ہے۔

کچھ اندازوں کے مطابق اورٹ کلاؤڈ خلا میں 150 کھرب کلومیٹر سے لے کر 290 کھرب کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی میں دم دار ستاروں اور شمسی نظاموں کا مطالعہ کرنے والے سائریل اوپیٹوم کہتے ہیں کہ ’اب تک ہمارے پاس طویل مدتی دم دار ستاروں کی مسلسل آمد کے لیے کوئی دوسری قابل اطمینان وضاحت نہیں ہے۔‘

’جب ہم ان کے مدار کا تجزیہ کرتے ہیں تو بظاہر ان سب کے مدار کا دور دراز نقطہ سورج اور زمین کے فاصلے سے 20 ہزار گنا دور ایک خطے میں ملتا ہے اور اسی کو ہم اورٹ کلاؤڈ کہتے ہیں۔‘

یہ بادل کیسے وجود میں آیا، یہ بات اب بھی ایک معمہ ہے۔ اس میں سینکڑوں اربوں یا کھربوں کی تعداد میں دم دار ستاروں کی طرح پتھریلے چھوٹے سیارہ نما اجسام شامل ہو سکتے ہیں جو عام طور پر سیاروں کو بنانے والی چیزیں ہوتی ہیں۔

لیکن کچھ کلومیٹر سے لے کر دسیوں کلومیٹر سائز جتنی ان چیزوں کو زمین سے سب سے زیادہ طاقتور دوربینوں کی مدد سے بھی براہ راست دیکھنا مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،ویڈیو کیپشنسورج کہاں سے آیا؟

تاہم، ایک حالیہ مطالعے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اورٹ کلاؤڈ کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے۔ نیدرلینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کے سائمن پورٹیگیز زوارٹ اور ان کے ساتھیوں نے کمپیوٹر سمولیشنز سے اس چیز کا مطالعہ کیا کہ ایک کروڑ سال سے زیادہ عرصے میں تاریخی ترتیب کے مطابق بادلوں کی تشکیل کس طرح ہوئی ہو گی۔ یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں بادل کی تشکیل کے ہر مرحلے کو الگ سے دیکھنے کے بجائے ان کو جوڑ کر دیکھا گیا ہے۔

پورٹیگیز زوارٹ کہتے ہیں کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بادل کسی سادہ انداز میں تشکیل نہیں پائے، بلکہ یہ ایک طرح سے قدرت کی ایک سازش کے تحت ہوا، جہاں متعدد عوامل کی پیروی کرنا پڑتی ہے۔ ان کے بقول سیارے، ستارے اور ملکی وے (کہکشاں) سب کا اس میں کردار تھا۔ ’اس عمل کی پیچیدگی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔‘

لیکن نتائج کا مطلب ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ہمارا نظام شمسی ہی صرف اس وسیع، برفیلے بادل کی لپٹ میں ہو۔ پورٹیگیز زیوارٹ کہتے ہیں ایک بار جب ہم نے مختلف عوامل کا نقشہ بنا لیا تو ہمیں پتہ چلا کہ وہ نظام شمسی کے ارتقا کا ایک قدرتی نتیجہ ہیں۔‘

ان کے کام میں اس بارے میں بھی پیشنگوئیاں کی گئی ہیں کہ اورٹ کلاؤڈ میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ اگر ان کی پیشنگوئیاں سچ ثابت ہوئیں تو اورٹ کلاؤڈ میں ایسا مواد ہو سکتا ہے جو ہمارے نظام شمسی کے لیے اجنبی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ’دوسرے ستاروں سے آنے والا سامان ہو۔‘

یہ خیال، کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے سورج نے کہیں اور سے مواد چوری کیا ہو، تقریباً ایک دہائی پہلے پیش کیا گیا تھا۔ نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف کینٹربری کے ماہر فلکیات مائیکل بینیسٹر کہتے ہیں کہ ’سورج کے ستاروں کی پیدائش کے جھرمٹ میں، سبلنگ ستارے ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھے ہوں گے تاکہ ان کے دم دار ستاروں کے بادل ان کے اوپر چھا جائیں۔ اور جب جھرمٹ منتشر ہو گیا تو وہ بھی الگ ہو گئے۔‘ جس طرح اورٹ کلاؤڈ میں دوسرے ستاروں سے آنے والے دم دار ستارے ہو سکتے ہیں، بالکل اسی طرح شاید ہمارے اپنے دم دار ستارے دوسرے ستاروں کا چکر لگا رہے ہوں۔

Compared to the Solar System, the Oort Cloud is an enormous bubble of material encasing the planets and our Sun (Credit: Mark Garlick/Getty Images)

،تصویر کا ذریعہMark Garlick/Getty Images

،تصویر کا کیپشننظام شمسی کے مقابلے میں اورٹ کلاؤڈ ایک بہت بڑا بلبلہ ہے جس کے اندر سیارے اور ہمارا سورج ہیں

نومبر 2020 سے ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انٹرسٹیلر چیزیں ہمارے اپنے نظام شمسی کی چیزوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ایک اور تحقیق میں، جس نے رواں سال کے شروع میں اپنے ابتدائی نتائج جاری کیے تھے، تین ستاروں کی نشاندہی کی گئی ہے جو شاید اورٹ کلاؤڈ سے گزر چکے ہیں۔

اصل میں دوسرے ستاروں سے کتنا اورٹ کلاؤڈ آتا ہے یہ ایک معمہ ہے، اور دم دار ستاروں کا قریبی مطالعہ بھی اس کا جواب نہیں دے سکتا ہے۔ ایریزونا یونیورسٹی کے کرہ ارضیات کے ایک سائنس دان کیٹ وولک کہتے ہیں کہ ’یہ جاننا بہت مشکل ہوگا کہ کونسے دم دار ستارے یہاں نہیں پیدا ہوئے تھے، لیکن ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں آنے والے ریئل ٹائم انٹرسٹیلر دم دار ستارے اس کے متعلق کچھ روشنی ڈال سکیں۔‘

پورٹیگیز زوارٹ اور ان کی ٹیم کے نتائج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلاؤڈ کے اندرونی حصے میں تقریباً آدھی چیزیں اور اس کے بیرونی حصے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کہیں اور سے قبضہ کر کے حاصل کیا گیا ہے۔

اورٹ کلاؤڈ اور اس کے اندر سے آنے والے دم دار ستاروں کو سمجھنے سے ہو سکتا ہے کہ ہمیں ہمارے نظام شمسی کی ابتداء اور اس کی تشکیل کے بارے میں کچھ اہم اشارے مل سکتے ہوں۔ یہ ان چیزیں میں سے ایک ہیں جو ہماری پہنچ میں ہیں اور اپنی اصلی حالت میں ہیں اور خیال ہے کہ یہ بھی اسی وقت بنی تھیں جب سیارے تشکیل میں آئے تھے۔

پورٹیگیز زیوارٹ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت اچھا ہو گا کہ اورٹ کلاؤڈ کی کچھ چیزوں کے اندر کے کچھ سوراخ کیے جائیں اور ان کا تجزیہ کیا جائے۔‘

لیکن وائجر 1 جو 40 سال سے زیادہ عرصہ پہلے لانچ کیا گیا تھا ابھی بھی اس سے بہت بہت دور ہے اور اس کا امکان بہت کم ہے کہ وہ وہاں کی کسی بھی چیز سے براہ راست رابطہ کرے، اس لیے اس طرح کے نمونے ملنے میں ابھی زیادہ وقت لگے گا۔

چار دیگر خلائی جہاز ہیں جو بالآخر اورٹ کلاؤڈ تک پہنچ سکیں۔ وائجر 2، نیو ہورائزنز اور پائنیئر 10 اور 11۔ اوپیٹوم کہتے ہیں کہ ’لیکن انھیں وہاں پہنچنے میں اتنا زیادہ وقت لگے گا کہ وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کو توانائی کا ذریعہ ختم ہو چکا ہو گا۔ یہ ابھی بہت دور ہے۔‘

اس کے بجائے یہ آسان ہو گا کہ اس اورٹ کلاؤڈ کے حصے سے کچھ نمونے حاصل کر لیے جائیں جو ہمارے پاس آتا ہے۔ سائنس دان پہلے ہی گذرتے ہوئے دم دار ستاروں کا مشاہدہ کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ پراسرار چیزیں کس طرح بنی تھیں۔ دم دار ستاروں کے متعلق خیال ہے کہ یہ وہیں وجود میں آئے تھے۔

ہمیں یہ دیکھنے کے لیے کہ دم دار ستارے کن چیزوں سے مل کر بنے ہیں ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ مطالعات کے ابتدائی نتائج میں یہ سامنے آیا ہے کہ اورٹ کلاؤڈ کے دم دار ستاروں میں کاربن مونو آکسائڈ، پانی اور کاربن کی دیگر اقسام اور سلیکیٹ موجود تھا۔

لیکن امید ہے کہ خلائی مشن کے دوران ان اورٹ کلاؤڈ دم دار ستاروں میں سے کسی ایک کو قریب سے دیکھنے کا بھی موقع مل سکتا ہے۔

یورپ کے روسیٹا آربیٹرر اور فیلائے لینڈر، اور ناسا کے ڈیپ امپیکٹ جیسے خلائی مشنوں میں خلائی جہاز گذرتے ہوئے دم دار ستاروں کے قریب گئے ہیں۔ دوسرے خلائی جہاز، جیسا جاپان کے حیابوسا اور حیابوسا 2 اور ناسا کے اوسیرس۔ریکس مشنوں میں بھی سیارچوں سے نمونے حاصل کیے گئے ہیں تاکہ انھیں زمین پر لایا جا سکے۔

لیکن اورٹ کلاؤڈ سے آنے والے دم دار ستاروں کے لیے یہ اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ وہ سورج کے مدار کے پاس پہنچنے سے کچھ سال پہلے ہی نظر آتے ہیں۔ اوپیٹوم کہتے ہیں کہ ’یہ ایک مشن تیار کرنے اور اسے دم دار ستارے تک بھیجنے کے لیے یہ بہت ہی مختصر وقت ہے۔‘

تاہم، مستقبل کا ایک مشن اس دم دار ستارے کے قریب پرواز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو اورٹ کلاؤڈ سے براہ راست آیا ہے نا کہ وہ جو کئی مرتبہ سورج کے پاس سے گذر چکا ہے۔ وولک کہتے ہیں کہ ’ایسے خلائی مشن تیار کیے گئے ہیں جو لانچ کر کے لانگ پیریئڈ کومٹس کو دیکھ سکیں اور پھر ایک قسم کے پارکنگ مدار میں انتظار کریں جب تک کہ کسی مناسب ہدف کا پتہ نہیں چل جاتا۔‘ ان میں سے ایک، کومیٹ انٹرسیپٹر ہے، جسے حال ہی میں یورپی سپیس ایجنسی نے منتخب کیا ہے۔ یہ دم دار ستارے کے انتخاب کے لیے متعدد خلائی جہاز استعمال کرے گا اور پھر اس کا قریب سے مطالعہ کرے گا۔

Studying comets like C/2020 F3 Neowise allows scientists to gain insights into what objects in the Oort Cloud are made of (Credit: Giulio Ercolani/Alamy)

،تصویر کا ذریعہGiulio Ercolani/Alamy

،تصویر کا کیپشندم دار ستاروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلے گا کہ اوورٹ کلاؤڈ کن چیزوں سے مل کر بنے ہیں

اوپیٹوم کہتے ہیں کہ ’یہ ایک نہایت دلچسپ مشن ہے ۔۔۔ اور امید ہے کہ وہ پہلی بار اورٹ کلاؤڈ سے براہ راست آنے والے کسی قدیم دم دار ستارے پر تحقیق کرنے میں مدد دے گا۔‘

2029 میں کومٹ انٹرسیپٹر کی لانچ سے پہلے، چلی میں تیار کی جا رہی ویرا روبن آبزرویٹری دوربین اورٹ کلاؤڈ سے آنے والے دم دار ستاروں کی تلاش شروع کر دے گی۔ یہ آبزرویٹری 2023 تک مکمل ہو جائے گی۔ اوپیٹوم کہتے ہیں کہ ’یہ ہمیں اورٹ کلاؤڈ سے آنے والے دم دار ستاروں تک مشن بھیجنے میں مدد دے گی اور یہی کومٹ انٹرسیپٹر کرے گا، چاہے وہ اکٹھے کر کے نمونے نہ بھی لا سکے۔‘

بینسٹر کہتے ہیں کہ دم دار ستاروں کے قریب سے مطالعہ سے ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ کس طرح ایک لمبے عرصے تک منجمد رہنے کے بعد وہ جب سورج کے قریب آ کر گرم ہو جاتے ہیں تو ان میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔‘ اور اگر وہ پہلی مرتبہ آ رہے ہوں تو وہ اپنے ساتھ کئی راز بھی لا رہے ہوں گے۔ اس طرح براہ راست دم دار ستاروں کو دیکھنے سے ان سوالوں کے جوابات مل سکتے ہیں جیسے کہ کلاؤڈ واقعتاً کتنا بڑا ہے، اور اس کا کتنا حصہ ہمارے نظام شمسی سے آیا ہے۔

اگرچہ سائنس دان مختلف سراغوں کو اکٹھا کرتے ہوئے اورٹ کلاؤڈ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں، اور اس کے وجود کے متعلق ثبوت اکٹھا کر رہے ہیں، لیکن ہمیں بس اس وقت ہی کچھ پتہ چلے گا جب ہمارے خلائی جہازوں میں سے کوئی ایک خلا کے اس نامعلوم خطے میں پہنچے گا۔ اگر وائجر 1 مزید 300 سال تک زندہ رہا تو انسانیت واقعی ایک نئے محاذ تک پہنچ چکی ہوگی۔